انوکھے کیس میں لڑکی کو عطیہ کیے گئے لڑکے کے دونوں ہاتھوں کا رنگ بدل گیا

بھارتی ڈاکٹروں نے حال ہی میں ایک انوکھے کیس کو رپورٹ کیا ہے۔ جس میں 21 سالہ لڑکی شریا کو لگے دونوں ہاتھوں کا رنگ شریا کے جسم کی رنگت جیسا ہو گیا ہے۔ 21 سالہ شریا کے دونوں ہاتھ 2016 کے ایک خوفناک حادثے کے بعد کٹ گئے تھے۔شریا اپنے گھر پونے سے اپنے کالج کرناٹک جا رہی تھیں کہ اُن کی بس کو حادثہ پیش آگیا۔ حادثے کے بعد ڈاکٹروں کے پاس اُن کے ہاتھ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ڈاکٹروں نے شریا کے دونوں ہاتھ اور بازو کا کچھ حصہ بھی کاٹ دیا۔ شریا کو صحت مند ہونے میں تقریباً ایک سال لگا۔ شریا جیسے ہی صحت مند ہوئیں تو اُن کی والدہ نے انہیں بتایا کہ امریتا انسٹی ٹیوٹ میں ہاتھوں کی ٹرانسپلاٹیشن ممکن ہے۔ شریا امریتا انسٹی ٹیوٹ گئیں تاکہ خود کو ہاتھوں کے عطیہ کے لیے رجسٹر کرا سکیں۔
معجزانہ طور پر جس دن شریا نے خود کو رجسٹر کرایا، انہیں اسی دن ہاتھوں کا عطیہ دینے کے لیے ڈونر مل گیا حالانکہ عطیہ کا انتظار کرنے والوں کی فہرست میں 200 سے زیادہ افراد تھے۔

شریا کے ہم عمر سچن کی وفات کے بعد اُن کے والدین نے اُن کے ہاتھ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ شریا کے ہاتھوں سے مطابقت رکھتے تھے۔ ڈاکٹروں نے اسی دن شریا کو ہاتھ لگانے کے لیے اُن کا اپریشن کر دیا۔ شریا کا آپریشن 13 گھنٹے جاری رہا۔ اس میں 20 سرجنز اور اینستھیسیا کے 16 ماہرین کی ٹیم نے حصہ لیا۔ ڈاکٹروں نے سب سے پہلے ہڈیوں کو جوڑا، اس کے بعد شریانوں، رگوں اورپھر عضلات کے ریشوں کو جوڑ دیا گیا۔

آخر میں ڈونر کی جلد کو شریا کی جلد سے سی دیا گیا۔ یہ آپریشن کامیاب رہا۔آپریشن کی کامیابی کے بعد شریا کو عام زندگی کی طرف واپس آنے میں تقریباً ڈیڑھ سال لگا۔ فزیو تھراپی کے لیے انہیں کوچی میں ڈیڑھ سال گزارنا پڑا۔ جلد ہی ڈاکٹروں اور شریا کے گھر والوں کو اُن کے ہاتھوںمیں کچھ دلچسپ تبدیلیوں کا احساس ہوا۔ شریا کو جو ہاتھ لگائے گئے تھے وہ سچن نامی نوجوان کے تھے۔

سچن ایک موٹر سائیکل حادثے کا شکار ہوکر دماغی طور پر وفات چکے تھے۔سچن کے والدین چاہتے تھے کہ کوئی دوسرا اُن کے بیٹے کے اعضا سے اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے گزار سکے، اسی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹے کے ہاتھ اور دوسرے اعضا عطیہ کر دئیے۔ شریا کو لگنے کے بعد ان ہاتھوں میں جو تبدیلیاں ہوئی، ان میں پہلی تو یہ تھی کہ سچن کے بھاری ہاتھ شریا کے جسم کو لگنے کے بعد ہلکے ہونے لگے۔

ان کی چربی پگھل گئی تھی اور یہ بازو کے مطابق ہو گئے تھے۔آخری چار مہینوں میں شریا کے ہاتھوں کی انگلیاں بھی پتلی اور لمبی ہو گئیں ۔ شریا کی والدہ نے بتایا کہ وہ ہرروز ہی اپنی بیٹی کے ہاتھ دیکھتی تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ہاتھوں کی انگلیاں عورتوں کے ہاتھوں کی طرح پتلی اور کلائی چھوٹی ہو گئیں ہیں۔سب سے اہم تبدیلی ہاتھوں کی رنگت تھی۔

آپریشن کے بعد ہاتھوں کی لی گئی تصویر میں یہ کافی سیاہ دکھائی دے رہےہیں جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی رنگ بدل گئی اور یہ شریا کے جسم کی رنگت جیسے ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک تو ہاتھوں کے ٹرانسپلانٹ کافی کم ہوتے ہیں اور اس کے بعد ہاتھ کی رنگ کی تبدیلی تو کافی نایاب ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ تحقیق ہونے تک وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ہاتھوں کی تبدیلی کے بعد اب شریا اپنے روزمرہ کے کام خود کر سکتی ہیں۔