دنیا کے پستہ ترین قد کا ریکارڈ رکھنے والے ‘ کھجیندرا تھاپا مگر’ نمونیا کے باعث انتقال کر گئے

دنیا کے پستہ ترین قد کا ریکارڈ رکھنے والے ‘کھجیندرا تھاپا مگر’ نمونیا کے باعث 27سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ 27 سالہ کھجیندرا تھاپا مگر کا تعلق نیپال سے تھا جنہیں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے دنیا کا پستہ ترین شخص قرار دیا گیا تھا۔

ان کے بھائی مہیش کے مطابق کھجیندرا نمونیا کے مرض میں مبتلا تھے البتہ اس بار اس کا اثر دل پر بھی ہوا جس کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ اس خبر کو شیئر کر کے کھجیندر تھاپا مگر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں نیپال سے تعلق رکھنے والے دنیا کے سب سے پستہ شخص کھجیندرا تھاپا مگر کے انتقال کی خبر سن کر بےحد دکھ ہوا’ ۔ کھجیندرا تھاپا مگر کا قد 2 فٹ 2.41 انچ کے قریب تھا ۔

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی رپورٹ کے مطابق کھجیندرا کو پستہ ترین شخص کا اعزاز 2010 میں اپنی 18ویں سالگرہ کے موقع پر ملا تھا۔ ان کو یہ اعزاز نیپال سے ہی تعلق رکھنے والے چندر بہادر ڈانگی کی وفات کے بعد دیا گیا تھا ، جن کے قد کی پیمائش اکیس اعشاریہ پانچ انچ تھی۔

تاہم 2015 میں چندر بہادر ڈانگی کے انتقال کے بعد کھجیندرا تھاپا مگر دوبارہ اس اعزاز کے مالک بن گئے تھے۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق کھجیندرا تھاپا مگر کے والد کا کہنا تھا کہ جب کھجیندر پیدا ہوئے تھے تو ان کا قد ایک عام آدمی کی ہتھیلی کے برابر تھا اور وہ اتنے پستہ تھے کہ انہیں نہلانا بھی بےحد مشکل تھا ۔

واضح رہے کہ نیپال کی حکومت نے کھجیندرا تھاپا مگر کو 2011 میں سیاحت کا سفیر برائے خیر سگالی بھی مقرر کیا، جس کے بعد وہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں سے ملاقاتیں بھی کرتے تھے۔