لاہور کی روایتی دشمنیاں، 40 سال کے دوران 800 سے زائد افراد دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے

لاہور (اُردو نیوز) ملک بھر میں آئے دن فائرنگ اور قتل کے واقعات سننے میں آتے ہیں۔ کہیں بھائی اپنے ہی سگھے بھائی کو موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے تو کہیں سالہا سال سے چلنے والی خاندانی دشمنیاں ایک دوسرے کی جانیں لینے پر ختم ہو جاتی ہیں لیکن اس معاملے پر نقصان اکثر دونوں جانب برابر ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں صرف لاہور میں روایتی دشمنیوں کے نتیجے میں ہونے والے قتل و غارت کے اعداد و شمار دیکھے گئے تو ہوشربا انکشافات سامنے آئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی روایتی دشمنیوں کے نتیجے میں گذشتہ چالیس سالوں کے دوران 800 کے قریب افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی درجن خاندان بھی اُجڑ گئے۔ حال ہی میں لکھوڈہر کی روایتی دشمنی علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر فائرنگ کی وجہ بن گئی تھی۔
یہ دشمنی اس علاقہ میں نورا کشمیری اور بابر بٹ کے درمیان تھی۔ جس میں اب تک ڈیڑھ درجن سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں۔

ماجھا سکھ اور روحیل اصغر کی لڑائی میں اب تک سب سے زیادہ افراد قتل ہوئے۔ لاہور ائیرپورٹ پر مارا گیا زین علی بابر بٹ کے قتل کی ایف آئی آر کی ضمنی میں نامزد تھا۔ رشید بھٹی اور ہنجروال کے شاہ گروپ کی جنگ میں بھی کئی افراد لقمہ اجل بن گئے۔ کٹھا برادری اور راجپوت برادری کی لڑائی میں بھی 75 سے زائد افراد جان کی بازی ہارے۔ استونمبردار ، ملک نثار کالو شاہ پوریا اور عارف حویلیاں والا کی گینگ وار میں 45 سے زائد افراد قتل ہوئے۔

ٹیپو ٹرکاں والا کے دست راست بابا حنیفا نے اس کے والد بلا ٹرکاں والا کو قتل کیا۔جس کے بعد ٹاپ 10 اشتہاریوں نے طیفی بٹ اور گوگی بٹ سے تعلقات بنا لیے۔ جس کے نتیجے میں ٹیپو ٹرکاں والا اور طیفی بٹ گروپ کی سرد جنگ شروع ہو گئی۔ ٹیپو ٹرکاں والا کے قتل کے بعد یہ سرد جنگ ڈرائنگ روم کی سیاست میں تبدیل ہو گئی۔ اس کے علاوہ بادامی باغ کے زاہد گروپ اور عارف بھنڈر کی دشمنی نے بھی بیس سے زائد افراد کی جانیں لیں۔ جبکہ عابد چودھری اور ارشد امین چودھری کی گینگ وار میں بھی کئی افراد لقمہ اجل بنے۔گذشتہ چالیس سال کے دوران لاہور میں 800 سے زائد افراد روایتی دشمنیوں کا لقمہ اجل بن چکے ہیں۔