اتنی زیادہ آبادی کے باوجود 50 سے زیادہ گھوسٹ ٹاؤنز اور شہروں والا ملک

لاہور (ویب ڈیسک) چین میں گھوسٹ ٹاؤنز اور شہروں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے شہروں میں بلند و بالا عمارتوں میں اپارٹمنٹس، جھیلیں، سڑکیں، شاپنگ سنٹر اور سب کچھ ہوتا ہے لیکن کمی ہوتی ہے تو صر ف رہائشیوں کی۔ اس وقت چین میں 50 سے زیادہ شہر ایسے ہیں، جن کی آبادی توقع سے بہت کم ہے۔ انہیں بجا طور پر گھوسٹ سٹی کہا جا سکتا ہے۔ ان شہروں کو لاکھوں لوگوں کے رہنے کےلیے ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن ان کی آبادی چند ہزار ہے۔

حالیہ چند سالوں میں چین کی آبادی کی معاشی ترقی کی رفتار بہت تیز رہی ہے۔ آج چین دنیا سب کی بڑی معاشی طاقتوں میں سے ایک ہے۔تاہم چین میں ملازمت کے زیادہ مواقع ساحلی شہروں میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں چین نے دیہاتی علاقوں کو ترقی دینے کے لیے درجنوں نئے شہر تعمیر کیے ہیں لیکن چین حکام کا یہ منصوبہ زیادہ کامیاب نہیں رہا۔ کئی ملین افراد کے لیے تعمیر کیے گئے ان شہروں میں 1 لاکھ تک لوگ آباد ہیں۔

ان لوگوں کے یہاں آباد ہونے کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ کسی نئے اور زیادہ آبادی والے شہروں میں رہائش پذیر ہونا نہیں چاہتے۔ حکومت کا خیال ہے کہ یہ زیادہ عرصے نہیں چلے۔ کیونکہ نہ ہی چین کی ترقی اور نہ ہی آبادی کی رفتار میں اضافہ کم ہو رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کو امید ہے کہ جلد ہی وہ ان شہروں کو پوری گنجائش کے مطابق آباد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔