بھارت کتنے سالوں میں پاکستان اور چین پر قبضہ کر لے گا؟ ہندوستان کی جانب سے مضحکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا

نئی دہلی (نیوزڈیسک) ہندو شدت پسند تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے رہنما اندریش کمار کا مضحکہ خیز اعلان، کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان پر 2025 تک قبضہ کر لے گا، ہم یہ خواب سجا کر بیٹھے ہیں کہ لاہور جائیں گے اور کیلاش سرور کی یاترہ کے لیے ہمیں چین سے اجازت نہیں لینی پڑے گی، ڈھاکہ میں ہم نے اپنی مرضی کی حکومت بنائی ہے یہ یورپی یونین جیسا بھارتی یونین آف اکھنڈ بھارت بننے والا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارت کی ہندو شدت پسند تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے رہنما اندریش کمار کی جانب سے ایک مضحکہ خیر اعلان کیا گیا ہے۔ ہندو شدت پسند تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے رہنما اندریش کمار نے ایک انتخابی جلسے کے دوران خوب بھڑکیں ماریں اور کہا کہ 2025 تک پاکستان ہندوستان کا حصہ ہوگا۔اندریش کمار کا کہنا ہے کہ ہم یہ خواب سجا کر بیٹھے ہیں کہ لاہور جائیں گے اور کیلاش سرور کی یاترہ کے لیے ہمیں چین سے اجازت نہیں لینی پڑے گی، ڈھاکہ میں ہم نے اپنی مرضی کی حکومت بنائی ہے یہ یورپی یونین جیسا بھارتی یونین آف اکھنڈ بھارت بننے والا ہے۔اس حوالے سے مودی سرکار کے ناقد بھارت کے مشہور صحافی راجیش جوشی کا کہنا ہے کہ اندریش کمار نے ایک ہی جھٹکے میں پاکستان کو بھارت کا حصہ بنا دیا اور چین کو نمٹا دیا ہے۔ اب جب چین اور پاکستان کو نمٹا دیا تو بنگلہ دیش کا کیا ذکر کیا جائے کیونکہ وہاں کی حکومت تو ہم ہی نے بنائی ہے۔

بس یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ جب فوج تیار ہے، ہمارے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی جیسا رہنما ہے اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ پارکوں میں لوگوں کو لاٹھیاں دیکر تیار کر رہی ہے اور گائے رکھشک جی جان لگا کر یا جان لے کر قوم کی خدمت میں لگے پڑے ہیں تو اندریش جی نے اپنا پراجیکٹ 2025 تک کے لیے کیوں ٹال دیا۔میری محدود سوچ کے مطابق اس کی ایک ہی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ 2025 میں آر ایس ایس کے سو سال پورے ہو رہے ہیں۔ ٹھیک بھی تو ہے کہ اس مقدس موقع پر بھارت ماتا کے سبھی بچے یعنی انڈیا ، پاکستان، بنگلہ دیش اور تبت کی گھر واپسی بھی ہوگی اور بن جائے گا بھارتی یونین آف اکھنڈ بھارت۔ اکیسویں صدی کی نسل کے وہ ووٹر جو پہلی بار ووٹ دیں گے ان میں سے کئی لوگو ں کو معلوم ہوگا کہ اندریش کمار پرانے مقرر ہیں لیکن ان کی ایک اور خوبی ہے کہ وہ تنازعوں سے نہیں گھبراتے اور اجمیر شریف کی درگاہ میں بم دھماکے کے الزآم سے بری ہو چکے ہیں۔اکتوبر 2007 میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر بم دھماکے سے تین افراد ہلاک ہوئے تھےاور سترہ زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت کانگریس کی حکومت تھی اور تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے اندریش کمار کو اس حملے کی سازش کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا تھا۔ وہ تو وقت کا پہیا گھوما اور 2014 میں نریندر مودی کی حکومت آئی اور 2017 میں اسُی ایجنسی نے اندریش کمار پر لگے تمام الزامات واپس لے لیے۔ اب اندریش کمار آزاد ہیں اور اکھنڈ بھارتی یونین کے پراجیکٹ پر پوری توجہ دے رہے ہیں۔