ٹڈیاں سونے سے بھی مہنگی بکنے لگیں ۔۔ مگر یہ ٹڈیاں آخر کس مقصد کیلئے استعمال ہوتی ہیں ؟ ناقابل یقین انکشاف

ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب میں آج کل آن لائن مارکیٹ میں زندہ ٹڈیوں کی خرید و فروخت زوروں پر ہے، اس وقت زندہ ٹڈیوں کی تھیلی 300ریال تک میں فروخت کی جا رہی ہے۔ سعودی ٹڈیوں کو خشکی کا جھینگا قرار دیتے ہیں۔ مگر خشکی کا یہ جھینگا اس وقت سمندری جھینگےسے بھی مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔ آن لائن ٹڈیاں فروخت کرنے والے گاہک کو ٹڈیوں کی تھیلی کی ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی دے رہے ہیں، ساتھ میں تھیلی میں موجود تمام ٹڈیوں کے زندہ ہونے کی ضمانت بھی دی جاتی ہے۔ اگر تھیلی میں موجود چند ٹڈیاں بھی مُردہ پائی جائیں تو گاہک اُنہیں واپس کروا کر اُن کی جگہ زندہ ٹڈیاں حاصل کر سکتا ہے۔ حالانکہ سعودی وزارت زراعت اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے متعدد بار وارننگ دی جا چکی ہے کہ سعودی عرب میں پائی جانے والی ٹڈیاں کھانے کے لیے انتہائی مضر ہیں کیونکہ ان کے خاتمے کے لیے ان پر جو سپرے کیا جاتا ہے وہ انسانی صحت کے لیے بہت مضر ہیں، سعودی عرب میں صحرائی ٹڈیاں افریقہ سے ہجرت کر کے مملکت آتی ہیں۔ کئی مقامات پر ان پر سپرے کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی لاکھوں کی تعداد راستے میں ہی دم توڑ جاتی ہے اورجو بچ جاتی ہیں، اُن پر زہریلے اسپرے کے مضر اثرات موجود ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یقینا ٹڈیوں میں پروٹین بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے، اس کے استعمال سے جوڑوں کے درد سے بھی افاقہ ہوتا ہے اور کینسر کے مرض میں بھی مفید ہے، لیکن ان پر جو سپرے کیا جاتا ہے، اس کے باعث یہ سُود مند ہونے کی بجائے اُلٹا انسانی صحت کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہیں، وہاں آج کل آن لائن مارکیٹ میں زندہ ٹڈیوں کی خرید و فروخت زوروں پر ہے،دوسری جانب خبر یہ ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے ترجیحاتی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے آغاز کی باقاعدہ تجویز پیش کی ‘سعودی ولی عہد کے دورہ روزہ دورہ پاکستان کے موقع پر دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ یہ تجویز بھی پیش ہوئی ، نجی ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترجیحاتی معاہدے میں ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں(non-tariff barriers) جس سے پاکستان کو بادشاہت کے حامل ملک تک اپنی برآمدات کی توسیع میں مدد ملے گی. مجوزہ مفت تجارتی معاہدے پر گلف تعاون کونسل سے مذاکرات 2006 سے مکمل تعطل کا شکار ہیں اور اب تک اس پر مذاکرات کے محض دو دور مکمل ہوئے ہیں ‘ سعودی ولی عہد سے ملاقات میں اس مسئلے کو بھی اٹھایا گیا، پاکستان کی سعودی عرب سے دوطرفہ تجارت مسلسل تنزلی کا شکار ہے جہاں 14-2013 میں 5.08ارب ڈالر کی تجارت 17-2016 میں گھٹ کر 2.5اربڈالر تک پہنچ گئی تھی‘ اس کی ایک وجہ پیٹرولیم مصنوعات کی گرتی ہوئی قیمتیں ہیں جو کل درآمدار کے 50فیصد حصے پر مشتمل ہے. پاکستان کی سعودی عرب کوبرآمدات گرنے کی ایک اور وجہ چاول، پھل، سبزیوں کی تیاری، کپڑے اور ٹیکسٹائل کے دیگر سامان کی فروخت میں کمی ہے، سعودی عرب برآمد کی جانے والی اہم ترین مصنوعات میں سے ایک چاول ہے لیکن اب دیگر ملکوں خصوصاً بھارت نے یہ مارکیٹ ہتھیا لی ہے‘اگر ترجیحاتی تجارتی معاہدہ پر کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو ایران کے بعد سعودی عرب دوسرا ملک ہو گا جس سے پاکستان کا اس نوعیت کا معاہدہ ہو گا۔