بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اندراج کیلئے قومی شناختی کارڈ لیکر آئیں،مساجد سے اعلانات سننے پر800خواتین پہنچ گئیں ،3افراد نے آئی ڈی کارڈ اور انگوٹھے کے نشانات لئے ،کچھ دنوں بعد ایساکیا کام ہوا کہ انکے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی

ساہیوال(سی پی پی) تین ماہ قبل پنجاب کے ایک گا ؤں میں 3 مساجد سے خواتین کے لیے اعلان کیا گیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اندراج کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ لے کر آئیں۔جس پر تقریباً 8 سو سے زائد خواتین بتائی گئی جگہ پر پہنچیں جہاں بیٹھے 3 افراد نے ان کے قومی شناختی کارڈ کی نقول اور ان کے انگوٹھے کے نشانات حاصل کرلیے، اس دن کے بعد سے ان کو انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں مزید کچھ سننے کو نہیں ملا۔گزشتہ ہفتے گاؤں کے ایک رہائشی محمد اپنی بیوی کے نام پر سم نکلوانے کے لیے اوکاڑہ پہنچا تو ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے ان کے نام پر سم جاری کرنے سے انکار کردیا، ۔

پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ خاتون کے نام پر پہلے ہی 9 سمز جاری ہوچکی ہیں۔یہ حیران کن انکشاف ہونے کے بعد یہ جوڑا واپس اپنے گاؤں آگیا اور ایک وکیل صدیق بلوچ سے اس بارے میں گفتگوکی۔وکیل صدیق بلوچ کا کہنا تھا کہ تاج محمد، طارق حسین اور خالد حسین نامی 3 افراد نے جعلسازی کے ذریعے خواتین سے شناختی معلومات حاصل کیں، جس کے بعد گاؤں کے لوگوں نے معاملے کی تحقیقات کے لیے پولیس سے رابطہ کیا تو ان 3 افراد میں سے تاج محمد اور طارق گرفتار کرلیے گئے۔اس حوالے سے ایک شخص عمران بلوچ کا کہنا تھا۔

کہ اس نے بھی 3 ماہ قبل ہونے والے اس واقعے میں شناختی کارڈ کی نقول فراہم کرنے والی خواتین کاڈیٹا چیک کیا، جبکہ نمائندے نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے بتائے گئے نمبر 668 پر 5 خواتین کے شناختی کارڈ سے معلومات چیک کی تو پتا چلا کہ ان کے نام پر 8 سے 9 سمز جاری ہوچکی ہیں۔اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ تر سم کارڈ ایکٹیلی کام کمپنی نے جاری کیے، عمران بلوچ کا کہنا تھا کہ متعدد خواتین جن کے نام پر ایک سے زائد سمز نکلوائی گئی کے پاس موبائل فون تک نہیں ہے، بعدازاں خواتین کی جانب سے ساہیوال ریجنل پولیس آفس میں ایک مشترکہ درخواست بھی دی گئی۔ا س بارے میں یوسف والا کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) امداد بلوچ کا کہنا تھا کہ پولیس نے عبدالستار نامی شخص کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا۔

اور خالد نامی ملزم کی تلاش شروع کردی گئی ہے جسے خواتین کے انگوٹھوں کے نشانات حاصل کیے تھے تاہم گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات سائبر جرائم کے قانون کے تحت کی جائیں۔مجرمانہ غفلت کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے ایک شناختی کارڈ پر 5 سمز تک جاری ہونے کی اجازت ہے لیکن اس معاملے میں ایک کارڈ پر 9 سمز تک نکلوائی گئیں۔

اس ضمن میں میڈیانے جب ٹیلی کام کمپنی کے کسٹمر کیئر نمائندے نے میڈیا سے گفتگو کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارا متعلقہ شعبہ اس حوالے سے تحقیقات کررہا ہے جبکہ پی ٹی اے کی ترجمان طیبہ افتخار نے بھی یہ جواب دیا کہ انتظامیہ معاملے کی چھان بین کررہی ہے۔عمران بلوچ کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی اے کے اعداد و شمار کے حساب سے اندازہ لگایا جائے تو مطلب گزشتہ 2 ماہ کے عرصے میں ان خواتین کے شناختی کارڈ پر 4 ہزار سے زائد سم نکلوائی گئیں ہیں جس میں زیادہ تر ایک ہی کمپنی کی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں