زندگی میں صرف ایک دفعہ نہانے والی غلیظ ترین ملکہ کی ایسی کہانی کہ جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے

یرا آج کا موضوعِ گفتگو ایک ایسی ملکہ ہے جسے یورپ میں ایک نیشنل ہیرو اور نجات دہندہ کی سی حیثیت حاصل ہے۔

اسپین میں جگہ جگہ اس کی مجسمے نظر آتے ہیں اور یورپی سماج میں اس کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف آج بھی یہ ملکہ مسلمانوں کی نزدیک یزید و فرعون جیسی شہرت کی حامل ہے۔ میں بات کر رہا ہوں کیسٹائل کی ملکہ ازابیل کی۔ جو اپنی سخت طبیعت اور کینہ پروری کے سبب مشہور ہے۔ یہ ایک کٹر کیتھولک ملکہ تھی جسے یہودیوں اور مسلمانوں سے شدید ترین نفرت تھی۔
یورپی ملک اسپین میں سینکڑوں سال سے قائم مسلمانوں کی حکومت کے مکمل خاتمے کا سہرا اسی ملکہ کے سر جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ ملکہ ہزاروں مسلمانوں کے قتل اور زبردستی ان کا مذہب تبدیل کروانے کی بھی ذمہ دار ہے۔اس زمانے کا یورپ شدید توہمات کی لپیٹ میں تھا۔ اس دور میں رومن کیتھولک مذہب کے مطابق نہانا عیاشی اور ایک برائی تصور کی جاتی۔ چونکہ ملکہ ازابیل بھی ایک راسخ العقیدہ کیتھولک تھی اس لیے اسے غسل کرنا سخت ناپسند تھا۔
مشرق و مغربی تمام ہی مورخین کے مطابق ملکہ ازابیل اپنی زندگی میں صرف 2 مرتبہ نہائی تھی، ایک بار جب وہ پیدا ہوئی اور دوسری بار جب اس کی شادی ہوئی۔ شادی کے بعد کی زندگی یا مرنے کے بعد تک اس کے غسل کرنے کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ لہٰذا اسے تاریخ کی متعفن ترین ملکہ کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے جسم سے اُٹھنے والی بدبو کو مختلف عطریات سے دفع کرتی جو فرانس کے شہر پیرس سے منگوائے جاتے، اسی لیے آج تک پیرس پرفیومز کے حوالے سے خاصا مشہور ہے۔

جب وہ بحیثیت فاتح مسلمانوں کی ریاست غرناطہ میں داخل ہوئی تو اسے جابجامسلمانوں کے تعمیر کردہ حمام یعنی غسل خانے نظر آئے۔ ازابیل کی مسلمانوں سے نفرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ نہانے دھونے کا خاص اہتمام کیا کرتے۔ اس لیے اُس نے مسلمانوں کے گھروں سے ملحقہ تمام حمام گروا دیے اور اس کی پیروی میں مسلمانوں کے لیے غسل کرنا ممنوع قرار پایا، ازابیل نے ایک پولیس فورس بھی تشکیل دے رکھی تھی جس کا کام صرف یہ معلوم کرنا تھا کہ ریاست میں کوئی شخص نہا تو نہیں رہا اور پھر ایسے شخص کو سخت ترین سزائیں دی جاتیں۔

ازابیل ہی وہ ملکہ تھی جس نے امریکہ دریافت کرنے والے جہاز راں کرسٹو فر کولمبس کی اس وقت مالی امداد کی جب وہ ہندوستان کے سمندری راستے کی تلاش پر روانہ ہوا تھا۔ کرسٹوفر کولمبس جب امریکہ سے واپس لوٹا اور اس نے ازابیل کو ریڈ انڈینز یعنی امریکی افراد کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ لوگ روز نہاتے ہیں۔
روز نہانے والی بات ازابیل کے لیے اتنی ہولناک تھی کہ وہ کانپ کر رہ گئی اور اس نے نئی دریافت ہونے والی اس سرزمین کے باشندوں پر بھی نہانے کی ممانعت عائد کر دی۔ یہ تو تھا یورپ کی عظیم ملکہ ازابیل کی صفائی ستھرائی کا عالم ۔

اب کچھ روشنی ڈالتے ہیں اس ملکہ کی زندگی اور اس کی سیاہ کرتوتوں پر۔

ازابیل اسپین کی ایک ریاست کیسٹائل کے بادشاہ جون ثانی کے گھر 1451 عیسوی میں پیدا ہوئی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ پر حملے کی تیاروں میں مصروف تھے۔ ازابیل اپنے باپ یعنی بادشاہ جون ثانی کی دوسری اولاد تھی، اس سے قبل اس کا ایک سوتیلا بھائی ہنری 4 بھی موجود تھا۔ جو اس کے باپ کی موت کے بعد کیسٹائل کا بادشاہ بنا۔ ہنری 4 نے بادشاہ بنتے ہی ازابیل، اس کے چھوٹے الفانسو اور ان کی ماں کو ایک دور دراز قلعے میں نظر بند کر دیا۔

جہاں یہ لوگ غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے لگے۔ یہی وہ دور تھا کہ جب ازابیل نے مذہبی تعلیم حاصل کی، اور بعد ازاں شدت پسندی کی حد تک مذہب کی جانب راغب ہوئی۔ اس کا چھوٹا بھائی الفانسو جلد ہی پراسرار طور پر مارا گیا۔ اس کے بعد ہنری 4 نے اپنی بیٹی کے لیے تخت کا راستہ صاف کرنے کی خاطر ازابیل کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کئی جگہ طے کی۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ کیسٹائل کے پڑوس میں ایراگون نامی ایک ریاست بھی واقع تھی۔
ایراگون کے بادشاہ نے خفیہ طور پر ایزابیل سے اپنے بیٹے فرڈینڈ کی شادی کر دی اور وہ بھاگ کر ایراگون چلی گئی۔ کچھ عرصہ بعد 1474 عیسوی میں اس کے بھائی اور کیسٹائل کے بادشاہ ہنری کی موت کے بعد وہ واپس لوٹ آئی اور تخت و تاج پر قبضہ کر لیا۔ جبکہ ایزابیل نے تخت کی جائز حقدار ہنری کی بیٹی جوآنا کو پرتگال بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

ازابیل کی تاجپوشی سے قبل کیسٹائل ایک ناکام اور مایوس ریاست تصور کی جاتی۔ اس کا بھائی ہنری ایک شاہ خرچ اور عیاش حکمران تھا جس نے کیسٹائل کی ریاست کو بھاری قرضوں تلے دبادیا تھا۔ تمام ریاست میں ریپ، قتل اور چوری جیسے جرائم عام تھے جن کی کوئی سزا نہ ملتی۔ازابیل تخت نشین ہوتے ہی نہایت سختی سے قانون پر عمل پیرا ہوئی۔ معافی، درگزر اور رحم دلی جیسے جذبات سے وہ ناآشنا تھی۔ بلکہ اسے لوگوں کو سزا دے کر سکون راحت نصیب ہوتی۔
جلد ہی اس نے ریاست کے شرفاء و امراء سمیت تمام جرائم پیشہ افراد کو تیر کی طرح سیدھا کر دیا۔ جبکہ اپنی زبردست معاشی پالیسیوں کے سبب ناصرف قرض سے نجات پائی بلکہ شاہی خزانہ پھر سے بھر گیا۔

اپنی ریاست یعنی کیسٹائل کو مضبوط کرنے کے بعد اس نے اپنے شوہر یعنی ریاست ایراگون کے بادشاہ فرڈیننڈ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو اسپین سے نکال باہر کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی جس کا خواب یورپ کئی سو سال سے دیکھ رہا تھا۔ کئی سالوں پر محیط اس مہم کے مطابق وہ اپنی افواج کے ذریعے آہستہ آہستہ مسلمانوں سے مختلف شہروں کا کنٹرول لیتے رہے۔ آخر میں صرف غرناطہ نامی ریاست پورے اسپین میں مسلمانوں کے پاس باقی بچی تھی، جس کا ازابیل اور فرڈیننڈ کی مشترکہ افواج نے محاصرہ کر لیا۔ پھر 2 جنوری 1492 مسلمانوں کی تاریخ کا سیاہ ترین دن۔ اس دن سقوط غرناطہ عمل میں آیا۔

اسپین نامی ملک پر مسلمانوں کی 8 سو سالہ عظیم الشان حکومت کا خاتمہ ہوا۔ غرناطہ کا آخری بادشاہ امیر عبداللہ ایک کمزور حکمران ثابت ہوا۔ جس نے نہایت ذلت کے ساتھ شکست تسلیم کی اور چند شرائط کے عوض غرناطہ کی چابیاں ازابیل اور فرڈیننڈ کے حوالے کر دیں۔ جن میں یہ شرائط قابل ذکر تھیں کہ کسی مسلمان کی جان و مال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، کسی مسلمان کا دین تبدیل نہیں کیا جائے گا، کسی مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا جبکہ امیر عبداللہ کو ایک بڑی جاگیر عطا کی جائے گی۔

جب وہ یہ تمام شرائط طے کرکے الحمرا محل سے روانہ ہوا توآنسوؤں سے رو رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر امیر عبداللہ کی ماں نے اسے ایک ایسی بات کہی جسے تاریخ نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا ۔ امیر عبداللہ کی ماں نے کہا کہ ‘‘جس انمول چیز کی حفاظت تم مردوں کی طرح نہ کر پائے اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو بہانا بے کار ہے’’۔

دوسری طرف ملکہ ازابیل اور فرڈیننڈ نے الحمرا محل پر قابض ہوتے ہی ان تمام شرائط کو پامال کر ڈالا۔ مسلمانوں کی جان و مال کچھ محفوظ نہ رہا۔ ہزاروں مسلمان لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی۔
مسجدوں کو اصطبل بنا دیا گیا جبکہ کہ کچھ مساجد شہید کر دی گئیں۔ اب ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس کے مطابق اسپین میں موجود تمام مسلمان عیسائیت قبول کرلیں ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ یوں ایک ایک دن میں ہزاروں مسلمان عیسائی بنائے گئے۔ ان کے لباس، تعلیم حتی کے نام تک بدل دیے گئے۔ جب کہ غرناطہ کے آخری بادشاہ امیر عبداللہ کو جاگیر بخشنے کے بجائے اس کے تمام خاندان کو قتل کر دیا گیا۔

یہ ایک بہت ضخیم موضوع ہے دوستو! قصۂ مختصر یہ ہے کہ ملکہ ازابیل نے اس ملک سے کہ جس پر مسلمانوں نے سینکڑوں سال حکومت کی تھی وہاں سے ان کا نام و نشان تک مٹادیا۔

ازابیل کے اس عمل کو ناصرف مسلمان بلکہ یورپی مورخین نے بھی وحشیانہ اور قابل مذمت قرار دیا۔ اس واقعے کے چند سال بعد یہ سفاک ملکہ ازابیل 1504 عیسوی میں مرگئی۔ اس کے دونوں لائق بچے جلد ہی موت کا شکار ہو گئے جبکہ اقتدار اس کی تیسری بیٹی جوآنا آف کیسٹائل کے ہاتھ لگا۔
یہ ملکہ یعنی جوآنا آف کیسٹائل بھی اپنے پاگل پن کے حوالے سے خاصی شہرت کی حامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں