’’ وہ قبر میں بھی کتوں کی طرح بھونکتا تھا ‘‘

اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقرب بندوں کی بے ادبی کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر جلال فرماتے ہیں۔اس بدبخت کو ایسی سزا ملتی ہے جس کو اہل زمانہ مدتوں تک یاد رکھتے ہیں ۔نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسنؓ کے مزار مبارک پر بھی ایک گستاخ نے ایسی حرکت کردی تھی جس پر اس پر دنیا و آخرت تنگ ہوگئی۔ جب اس بدبخت شخص نے مزارِ مبارک کی بے حرمتی کی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے عقل سلب کردی اور جنون کی بیماری میں مبتلا کردیا۔

اس لئے کہ اس نے اپنی عقل کو استعمال کرنے کے بجائے بدبختی کا مظاہرہ کیاتھا اور مزارِ اقدس کی بے حرمتی کی۔ اس شخص کا جنون عام پاگلوں کے برخلاف وہ کتوں کی طرح بھونکنے لگا۔ جب وہ مرگیا تو اس کی قبر سے کتے کے بھونکنے کی آواز آیا کرتی تھی۔ تاریخ دمشق ابن عساکر اور جامع کرامات الاولیاء میں حضر ت اعمشؓسے مذکورہ واقعہ کی روایت بیان فرمائی ہے ۔

آپؓ نے فرمایا کہ ایک بدبخت شخص نے سیّدنا امام حسنؓ کے مزار مبارک پر بدبختی سے بول و براز کیا تو وہ اسی وقت پاگل اور مجنون ہوگیا اور مرتے دم تک کتوں کی طرح بھونکتا رہا، پھر مرنے کے بعد اس کی قبر سے بھیانک آواز سے کُتا بھونکنے کی آواز سنائی دیتی اس کرامت کو حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ جو ملک شام کے بلند پایہ عالم گزرے ہیں ، نے اپنی کتاب ’’ جامع کرامات اولیاء ‘‘ میں کتاب طبقات مناوی اور ابونعیم سے نقل فرمایا ہے اور یہ ہر کسی کے لئے نصیحت ہے کہ وہ مزارعات پر قطعی ایسی حرکت نہ کریں کہ ان کا معیوب کام گستاخی بن جائے اوردنیا و آخرت ان پر تنگ ہوجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں