جب غیر مسلم ہو نے کے با و جو د نیلسن منڈیلا نے سعودی با دشاہ سے کہا کہ وہ مکہ اور مدینہ آنا چاہتے ہیں تو انہیں کیا جواب دیا گیا ؟ جانئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر اور ملک میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے رہنما نیلسن منڈیلا کی خصوصی معاون زیلڈا لا گرینج نے انکشاف کیا کہ نیلسن منڈیلا کے متعدد فلاحی کاموں میں سعودی عرب نے بڑھ چڑھ کر مدد کی اور انہوں نے ریاض کے تقریباً 8 دورے کیے۔عرب نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق نیلسن میڈیلا کے ساتھ 19 برس گزارنے والی پرسنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’نیلسن منڈیلا کے شاہی خاندان سے گہرے تعلقات تھے جبکہ ان کے مرحوم شاہ فہد، ان کے تخت نشین عبداللہ، شہزادہ بندر بن سلطان اور ان کے قریبی رشتے داروں سے براہ راست تعلقات تھے‘۔

واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست سفید فام حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد کی اور اپنی عمر کے 27 برس جیل میں گزارے۔انہوں نے بتایا کہ شاہی خاندان نے نیلسن منڈیلا کی ہر ممکن مدد کی اور ہمیشہ ان کا بہترین خیر مقدم کیا جس کے نتیجے میں نیلسن منڈیلا نے بھی سعودی عرب کے حکمرانوں اور لوگوں سے تعلقات استوار رکھنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نیلسن منڈیلا نے سعودی عرب میں ان تمام ہسپتالوں کا دورہ کیا جہاں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

ایک دفعہ نیلسن منڈیلا نے مکہ اور مدینہ کی زیارت کی خواہش کا اظہار کیا جس کے جواب میں شاہی خاندان نے خصوصی انتظامات کیے لیکن ان کی خصوصی معاون کو یہ کہہ کر اجازت نہیں دی گئی کہ وہ مسلم نہیں ہیں۔خیال رہے کہ نیلسن منڈیلا کو 1964 میں بغاوت کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی دی گئی تھی۔جس پر نیلسن منڈیلا کی سیکریٹری نے قدرے حیرانی سے جواب دیا کہ ’نیلسن منڈیلا بھی تو مسلمان نہیں ہیں‘ جس پر سعودی عرب نے بہت حیرانی کا اظہار کیا کیوں کہ وہ نیلسن منڈیلا کو مسلم سمجھ رہے تھے‘۔نیلسن منڈیلا کی سیکریٹری بتاتی ہیں کہ نیلسن منڈیلا پہلے عیسائی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کا دورہ کیا۔سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان نے نیلسن منڈیلا کے بارے میں کہا تھا ۔

کہ ’وہ صرف افریقہ کے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا رہنما ہیں‘۔نسل پرستی کے خلاف نیلسن منڈیلا کی مسلسل جدوجہد پر انہیں 1993 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا، جس کے بعد وہ ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے اور صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے ہمیشہ مفاہمت اور معاف کرنے کی پالیسی اختیار کی۔نیلسن منڈیلا کی سیکریٹری نے بتایا کہ نیلسن منڈیلا نے ستمبر 1997 میں کپ ٹاؤن میں شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کے اعزاز میں منعقد تقریب کے موقعے پر واضح کیا تھا کہ ’نسل پرستی کے خلاف آزادی کی جدوجہد بلخصوص سعودی عرب اور بلعموم پورے عرب خطے کی مرہون منت ہے، عرب ممالک کے تعاون اور تعلقات کی وجہ سے ہمارے نظام زندگی میں بہتری آئی‘۔