سی پیک کیلئے بنائی جانے والی سرنگیں ۔۔ کیا واقعی یاجوج ماجوج کی دیواروں میں سوراخ کیے جارہے ہیں ؟ معروف عالم دین کے ہولناک انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) یاجوج ماجوج کے بارے میں پہلے وہ معلومات ملاحظہ فرمائیں جن کے بارے میں عمومی رائے اور قوی رائے ہے ۔ سرخی میں مذکورہ عالم دین کی وڈیو خبر کے نیچے ملاحظہ کریں ۔۔۔(((((یاجوج ماجوج کون ہیں ؟ کس ملک میں رہتے ہیں ؟ ذوالقرنین کی بنائی ہوئی سدّ (آہنی دیوار ) کہاں ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے متعلق مفسرین و مورخین کے اقوال مختلف رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے (واللہ اعلم ) کہ یاجوج ماجوج کی قوم عام انسانوں اور جنات کے درمیان ایک برزخی مخلوق ہے اور جیسا کہ کعب احبار نے فرمایا اور نووی نے فتاویٰ میں جمہور علماء سے نقل کیا ہے ان کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے آدم علیہالسلام پر منشق ہوتا ہے مگر ماں کی طرف سے حوا تک نہیں پہنچتا۔ گویا وہ عام آدمیوں کے محض باپ شریک بھائی ہوئے۔ کیا عجب کہ دجال اگر جسے تمیم داری نے کسی جزیرہ میں مقید دیکھا تھا اسی قوم میں کا ہو۔

جب حضرت مسیح علیہ السلام جو محض ایک آدم زاد خاتون (مریم صدیقہ ) کے بطن سے متوسط نضحۂ ملکیہ پیدا ہوئے۔ نزول من السماء کے بعد دجال کو ہلاک کر دیں گے۔ اس وقت یہ قوم یاجوج ماجوج دنیا پر خروج کرے گی اور آخر کار حضرت مسیح کی دعا سے غیر معمولی موت مرے گی۔ اس وقت یہ قوم کہاں ہے اور ذوالقرنین کی دیوار آہنی کس جگہ واقع ہے ؟ سو جو شخص ان سب اوصاف کو پیش نظر رکھے گا جن کا ثبوت اس قوم اور دیوار آہنی کے متعلق قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں ملتا ہے۔ اس کو کہنا پڑے گا کہ جن قوموں ، ملکوں اور دیواروں کا لوگوں نے رائے سے پتہ دیا ہے ، یہ مجموعہ اوصاف ایک میں بھی پایا نہیں جاتا۔ لہٰذا وہ خیالات صحیح معلوم نہیں ہوئے۔ اور احادیث صحیحہ کا انکار یا نصوص کی تاویلات بعیدہ دین کے خلاف ہے۔ رہا مخالفین کا یہ شبہ کہ ہم نے تمام زمین کو چھان ڈالا مگر کہیں اس کا پتہ نہیں ملا اور اسی شبہ کے جواب کے لئے ہمارے مؤلفین نے پتہ بتلانے کی کوشش کی ہے۔

اس کا صحیح جواب وہ ہی ہے جو علامہ آلوسی بغدادی نے دیا ہے کہ ہم کو اس کا موقع معلوم نہیں اور ممکن ہے کہ ہمارے اور اس کے درمیان بڑے بڑے سمندر حائل ہوں اور یہ دعویٰ کرنا کہ ہم تمام خشکی و تری پر محیط ہو چکے ہیں واجب تسلیم نہیں۔ عقلاً جائز ہے کہ جس طرح اب سے پانچ سو برس پہلے تک ہم کو چوتھے براعظم (امریکہ ) کے وجود کا پتہ نہ چلا۔ اب بھی کوئی پانچواں براعظم موجو د ہو جہاں تک ہم رسائی حاصل نہ کر سکے ہوں اور تھوڑے دنوں بعد ہم وہاں تک یا وہ لوگ ہم تک پہنچ سکیں۔ سمندر کی دیوار اعظم جو آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ آج کل برطانوی سائنس داں سی۔ ایم۔ ینگ کے زیر ہدایت اس کی تحقیقات جاری ہے۔ یہ دیوار ہزار میل سے زیادہ لمبی اور بعض بعض مقامات پر بارہ بارہ میل تک چوڑی اور ہزار فٹ اونچی ہے۔ جس پر بے شمار مخلوق بستی ہے۔ جو مہم اس کام کے لئے روانہ ہوئی تھی حال میں اس نے اپنی ایک سالہ تحقیقات ختم کی ہے۔

جس سے سمندر کے عجیب و غریب اسرار منکشف ہوتے ہیں۔ اور انسان کو حیرت و استعجاب کی ایک نئی دنیا معلوم ہو رہی ہے۔ پھر کیسے دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ہم کو خشکی و تری کی تمام مخلوق کے مکمل اکتشافات حاصل ہو چکے ہیں۔ بہر حال مخبر صادق نے جس کا صدق دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔ جب اس دیوار کی مع اس کے اوصاف کے خبر دی تو ہم پر واجب ہے کہ تصدیق کریں اور ان واقعات کے منتظر رہیں جو مشککین و منکرین کے علی الزعم پیش آ کر رہیں گے۔۱) مسند احمد میں ہے رسول اللہؐ فرماتے ہیں یاجوج ماجوج کھولے جائیں گے اور وہ لوگوں کے پاس پہنچیں گے جیسے اللہ عز و جل کا فرمان ہے ’’ وَ ھُمْ مِّنْ کُلِّ حدَبٍ یَّنسِلُوْنَ ‘‘ وہ چھا جائیں گے اور مسلمان اپنے شہروں اور قلعوں میں سمٹ آئیں گے اور اپنے جانوروں کو بھی وہیں لے لیں گے اور اپنا پانی انہیں پلاتے رہیں گے۔

یاجوج ماجوج جس نہر سے گذریں گے اس کا پانی صفا چٹ کر جائیں گے۔ یہاں تک کہ اس میں خاک اڑنے لگے گی۔ ان میں دوسری جماعت جب وہاں پہنچے گی تو وہ کہے گی شاید اس میں کسی زمانے میں پانی ہو گا۔ جب یہ دیکھیں گے کہ اب زمین پر کوئی نہ رہا اور واقع میں سوائے ان مسلمانوں کے جو شہروں اور قلعوں میں پناہ گزیں ہوں گے کوئی اور وہاں ہو گا بھی نہیں تو یہ کہیں گے کہ اب زمین والوں سے تو ہم فارغ ہو گئے آؤ آسمان والوں کی خبر لیں۔ چنانچہ ان میں ایک شریر اپنا نیزہ گھما کر آسمان کی طر ف پھینکے گا، قدرت اللہ سے خون آلود ہو کر ان کے پاس گرے گا۔ یہ بھی ایک قدرتی آزمائش ہو گی اب ان کی گردنوں میں گٹھلی ہو جائے گی اور اس وبا میں یہ سارے کے سارے ایک دم مر جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ سارا شور و غل ختم ہو جائے گا۔

مسلمان کہیں گے کوئی ہے جو اپنی جان ہم مسلمانوں کے لئے ہتھیلی پر رکھ کر شہر کے باہر جائے او دشمنوں کو دیکھے کہ کس حال میں ہیں ؟ چنانچہ ایک صاحب اس کے لئے تیار ہو جائیں گے اور اپنے تئیں قتل شدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں مسلمانوں کی خدمت کے لئے نکل کھڑے ہوں گے۔ دیکھیں گے کہ سب کا ڈھیر لگ رہا ہے۔ سارے ہلاک شدہ پڑے ہوئے ہیں۔ یہ اسی وقت ندا کرے گا کہ مسلمانو ! خوش ہو جاؤ، اللہ نے خود تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ یہ ڈھیر پڑا ہواہے۔ اب مسلمان باہر آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی لائیں گے۔ ان کے لئے چارہ بجز ان کے گوشت کے اور کچھ نہ ہو گا۔ ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں