’’اللہ پاک کا معجزہ ‘‘ 34کروڑ بھگوانوں کی سرزمین ہندوستان میں ایک ہندو بچے نے پیدا ہوتے ہی کیا کہہ دیا ؟ وڈیو ملاحظہ کریں

اسلام آباد (احمد ارسلان) کہا جاتا ہے کہ انسان دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ ایک چھوٹا سا بچہ بھلا کیا جانے کہ اس نے نعرہ حق اللہ اکبر بلند کرنا ہے یا رام رام کی صدا ئے پست لگانی ہے۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے ویسے ویسے اس کے کانوں میں مختلف آوازیں آنے لگتی ہیں ۔ ہندو ماں باپ کہتے ہیں بیٹا بھگوان کی پوجا کر لو ، انہیں پَرنام کرو ، انہیں سے سب کچھ مانگو ۔ مسیحی ماں باپ سکھاتے ہیں کہ دیکھو بیٹا عیسیٰ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں جو ہمارے گناہوں کی تلافی کیلئے سولی چڑھ گئے ، بیٹا تم انہیں کو مدد کیلئے پکارو۔ بدھ مت اپنے بچوں کو گیان اور دھیان کی جانب راغب کرتے ہیں ۔

بندروں کو جد امجداور کائنات کو محض ایک زور دار دھماکے کا نتیجہ ماننے والے اس خوبصورت اور مربوط نظام کے تحت قائم دنیا کا خالق کسی کو نہیں مانتے ۔ یہ ملحدین ہیں جو کہتے ہیں کہ بس جو بھی ہے ، یہیں ہے ، عیش کرو، کھائو پیو، جی بھر کے زندگی کے مزے لو اور مر کے مٹی بن جائو ، پھر کون سی طاقت ہے جو تمہیں زندہ کرے گی ۔ یہودی اپنے بچوں کواقوام عالم سے برتر ہونے کا سبق دیتے ہیں اورخود کو خدا کی لاڈلی قوم بتاکر بچوں کے اذہان میں برابری اور بھائی چارے جیسی خوبصورت سوچ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتے ہیں ۔ مذہب خواہ کوئی ہو ان سب میں اسلام اس لیے ان برتر ہے کہ اس کا ایک ایک قول، اس کی ایک ایک نصیحت اپنے عمل کرنے والوں کی دنیا سنوار دیتی ہے ۔

یہی تو وہ مذہب ہے جہاں نہ کوئی برہمن ہے نہ کوئی شودر ، نہ کوئی خدا کا لاڈلا ہے نہ کوئی ایسا بھکشو جو ایک طرف تو امن پسندی کے راگ الاپتے پھرتے ہیں مگر دوسری جانب روہنگیا مسلمانوں کی بدترین نسل کشی کے ذمہ دار بھی ہیں اور ہاں ۔۔! ہم مسیحی سپر پاورز کو کیوں بھول رہے ہیں کہ جو انسانی حقوق کے علمبردار تو ہیں تاہم دنیا کے کئی ممالک میں یہی مسیحی انسانوں کو اپنے کتوں سے بھی کم تر سمجھتے ہوئے ان کا خون پانی کی طرح بہارہے ہیں ۔ معصوم ذہن اپنے والدین کی دیکھا دیکھی کبھی بے جان مورتیوں کو حقیقت مان کر انہیں ہی اپنا اَن داتا سمجھ بیٹھتا ہے تو کبھی یسوع مسیح کو اللہ کا بیٹا گردانتا ہے مگر ہر کسی پر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ جب اسے اس نادیدہ قوت کا احساس بڑی شدت سے دلایا جاتا ہے کہ اے کم عقل ، زرا ہوش کے ناخن لے اور دیکھ کہ اساطیری کرداروںپر مشتمل نہ تو دیوی دیوتا سچے ہیں نہ ہی عقیدہ تثلیث میں کوئی حقیقت ہے ۔

انسان بس عقلی بنیادوں پر سوچے اور اپنی طبیعت کو تجسس کے سانچے میں ڈھال لے تو بخوبی جان لے گا کہ حق اگر کوئی ہے تو بس’’ وہی احد ، وہی صمد‘‘ جس نے اپنے پیامبروں کے ذریعے انسان کو سب کچھ بتلا دیا کہ میں کیاہوں اور میری تعلیمات کیا ہیں ۔ شان ِ کن فیکون کا مالک بس کہتا ہے ہو جا اور وہ کام ہو جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ 34کروڑو خدائوں کی سرزمین ہندوستان میں پیش آیا جہاں ایک بچے نے پیدا ہو تے ہی اللہ ، اللہ ، اللہ کی صدا بلند کر دی ۔ یقینا ً اقبال کے بقول ’’عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی ‘‘ تاہم یہی وہ وقت ہے کہ جب آپ کو اپنی انا ، اپنے فرسودہ عقائد اور جھوٹ کو چھوڑ کر سچ کا دامن تھامنا ہے ۔ بچے کی وڈیو آپ بھی ملاحظہ کیجیے: