بنو اُمیہ کا بادشاہ حج کے دنوں میں جب طواف کعبہ کرنے گیا تو اُسے راستہ نہیں ملا لیکن جیسے ہی امام زین العابدینؑ طوافِ کعبہ کے لیے پہنچے تو۔۔۔۔۔۔۔۔ مولانا طارق جمیل نے اہلِ بیت ّ کی شان بیان کر دی

لاہور( محرم الحرام اسپیشل ) شان اہلِ بیت کیا ہے؟ مولانا طارق جمیل نے فرزند حسین امام زین العابدین کی شان بیان کرتے ہوئے ایسا واقعہ پیش کردیا کہ مسلمان عش عش کر اُٹھے ۔ ایک محفل سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ بنو امیہ کا بادشاہ ہشام بِن عبدالملک ایک دفعہ حج کے دوران کعبے کا طواف کر رہا تھا ۔ حجر اسود کے قریب پہنچا جگہ نہیں ملی، دھکے کھا کر واپس ہوگیا ۔ فرزند حسین امام زین العابدین تشریف لائے تو ایک دم مجمع پیچھے ہٹ گیا آپؑ نے بوسہ لیا اور آگے چلے گئے ۔ ہشام بِن ملک کے ساتھ شام کے سردار موجود تھے ۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو وہ حیران ہوگئے کہ بادشاہ کے لیے لوگوں نے راستہ نہیں چھوڑا لیکن اس آدمی کے لوگ پیچھے ہوگئے، آخر یہ ہے کون؟ انہوں نے وہاں پر موجود لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟

بنو اُمیہ کا بادشاہ ہشام جانتا تھا کہ یہ ہستی کون ہے لیکن وہ بھی شام کے سرداروں کی طرح انجان بنا رہا اور کہا کہ میں نہیں جانتا یہ کون ہے۔ لیکن بادشاہ کے ساتھ ایک شاعر جس کا نام فرزدغ تھا وہ کھڑا اسن نے کہا میں بتاتا ہوں یہ کون ہیں۔ شام کے سرداروں نے کہا کہ بتاؤ، کیونکہ فرزدغ اپنے زمانے کا بہت بڑا شاعر تھا ۔ جسے ہی اس نے شام کے سرداروں کی بات سنی تو شاعر نے 35 اشعار کا قصیدہ پڑھا جس کے آغاز کے دو شعر کچھ یوں تھے ۔۔۔ ’’ یہ وہ ہے جسے تم تو نہیں جانتے /لیکن اسے اللہ کا گھر بھی جانتا ہے /اور مکے کا ایک ایک پتھر بھی جانتا ہے /اور ایک ایک پہاڑ جانتا ہے/یہ وہ سخی ہے کہ اسکی ’لا‘ صرف کلمے میں نکلتی ہے/سائل کے سامنے اس نے آج تک ’ لا ‘ نہیں کہا‘‘ / جب فرزدغ نے قصیدہ مکمل کیا تو ہشام کو اتنا غصہ چڑھا کہ اُس نے شاعر کو اصفہان میں قید کروا دیا۔

جب امام زین العابدین کوسارے واقعے کا پتہ چلا تو انہوں نے دس ہزار درہم فرزدغ کو ہدیہ بھیجا اور پیغام بھجوایا کہ یہ تحفہ قبول کرو۔ جب تحفہ اس کے پاس پہنچا تو وہ دیکھ کر رونے لگا اور جو تحفہ لایا تھا اس سے مخاطب ہوکر اسے کہنے لگا کہ امام زین العابدینؑ سے کہنا کہ میں نے ساری زندگی بادشاہوں کی تعریف کی ہے پیسے کے لیے ۔ لیکن آج میں نے آپکی تعریف صرف اللہ کو اور آپکے ناناؐ کو راضی کرنے کے کی ہے۔ مجھے کچھ نہیں چاہیئے، میں نے اس کا صلہ روز محشر لینا ہے ، یہاں نہیں۔ اور کہا کہ یہ دس ہزار درہم واپس کر دیں ۔

جب قاصد پیسے اور شاعر کا پیغام لے کر امام زین العبادین ؑ کے پاس پہنچا تو امامؑ نے سارا واقعہ سننے کے بعد فرمایا جاؤ اور اسے پیغام دو کہ تمہیں تیری نیت کا صلہ مل گیا، لیکن اہلِ بیتؑ کے گھر سے جب کوئی چیز نکل جاتی ہے تو وہ واپس نہیں آتی۔ جب قاصد دوبارہ شاعر کے پاس پہنچا اور امامؑ کا پیغام شاعر کو دیا تو اس نے تحفہ قبول کر لیا ۔ مولانا طارق جمیل نے حاضرین کو تقلید کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیت سے محبت اور پیار ایمان کا حصہ ہے۔ اسی لیے اللہ کے نبیؐ نے ہمیں درود سیکھایا (اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد) ۔