اگر جن کسی عورت کو حاملہ کردے تو کیا ہو گا؟ پیدا ہونیوالا بچہ انسان ہو گا یا جن؟ مسئلہ بتا دیا

نجی ٹی وی کے پروگرام میں اینکرنے مفتی صاحب سے سوال کیاکہ انسانوں کی طرح جن بھی پوری طرح مکلف ہیں شریعت کے ،یعنی شریعت پرعمل کرتے ہیں۔جس طرح ہم شریعت کے احکامات کے پابندہیں۔ ایک بہت بڑاجوحکم ہے وہ ہے نکاح ۔انسانوں کے لیے شادی کی ترغیب بھی ہے اورآپ ؐ کاحکم بھی کہ نکاح کروتاکہ افزائش کاسلسلہ چلتارہےتوجن بھی شریعت کے پا بندہوتے ہیں توکیاان میں بھی نکاح اطریقہ کاراسی طرح ہے جس طرح انسانوں میں ہے ۔جس کاجواب دیتے ہوئے مفتی صاحب نے کہاکہ جی بالکل جن بھی اسی طرح نکاح کرتے ہیں۔

اینکرنے پھرسوال کیاکہ کیاجنات اورانسانوں کاآپس میں نکاح ہوسکتاہے کہ ہیں سننے میں آتاہےکہ حضرت سلمان کے دورمیں ملکہ سباجوتھی اس کے بارے میں مشہورتھاکہ وہ انسان اورجن کی اولادتھی۔توظاہرہے کہ انسان اورجن کانکاح ہواہوگااوراگران کانکاح ہوسکتاہے تو وہ کس حالت میں۔آیامردجن اوراورعورت انسان ہویاعورت جن ہواورمردانسان ہو۔مفتی صاحب نے کہاکہ اس سلسلے میں فقہااعظم کے مختلف اقوال ہیں چنانچہ امام اعظم امام ابوحنیفہ کامسلک یہ ہے کہ انسان اورجن کانکاح نہیں ہوسکتاوہ اس کوممنوع قراردیتے ہیں اوریہ فرماتے ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں جس کاترجمہ ہے کہ تمہاری جنس میں سے ہی ہم نے تمہاراجوڑاپیداکیا۔اورلہٰذاجنات غیرجنس ہے اس لیے ان کاانسانوں کے ساتھ جوڑانہیں بن سکتا۔اورایک حدیث میں بھی آتاہے جس میں حضوراکرم ؐ نے جن سے نکاح کرنے سے منع فرمایاہے۔امام ابوحنیفہ کاکہناہے کہ جن سے نکاح نہیں ہوسکتاچاہے جن عورت ہویامرد ہو۔امام مالک کہتے ہیں جن سے نکاح جائز ہے لیکن میں اس کوپسندنہیں کرتااس لیے کہ اس سے فسادفی الارض کااندیشہ ہے ۔

وہ اس طرح کہ اگرایک عورت حاملہ نظرآئے اورکوئی اسے پوچھے کہ یہ حمل کس کاہے تووہ کہے کہ یہ جن کاحمل ہےتوا س سے فسادفی الارض کادرواز ہ کھلے گا۔کہ کوئی بھی عورت کہہ سکتی ہے کہ یہ جن کی اولادہے ۔اس لیے کہتے ہیں کہ میں اس کوپسندنہیں کرتا۔