25 سالہ خوبرو نرس کو ہسپتال میں اس کے ساتھیوں نے ایسی کیاشرمناک بات کہہ دی کہ دلبرداشتہ ہوکر اپنی جان ہی لے لی

لندن(نیوز ڈیسک) برطانیہ کے قومی ادارہ صحت کے تحت کام کرنے والی ایک نوجوان نرس نے اپنے ساتھیوں کے توہین آمیز رویے سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی ہے۔ تیس سالہ ریان کولنز نے خود کشی سے قبل اپنی فیملی کو بتایا تھا کہ وہ جس مینٹل ہسپتال میں کام کرتی تھی وہاں اسے ہمیشہ بدترین شفٹ دی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی تھی او رساتھی ورکر اسے موٹی کہہ کر اُس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کے توہین آمیز رویے او رہر روز کی بدسلوکی کے باعث ریان کے لئے اس کی نوکری ایک عذاب کی صورت اختیار کرچکی تھی۔

دی مرر کے مطابق ریان ساﺅتھ ویلز کے کیفن کو ایڈ مینٹل ہسپتال میں کام کررہی تھی۔ ریان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ تھکی ہوئی اور پریشان نظر آتی تھی۔ اپنے سماجی و نفسیاتی مسائل کے باعث وہ اپنے دو بچوں پر بھی مناسب طور پر توجہ نہیں دے پارہی تھی اور قریبی عزیزوں سے بھی اس کا فاصلہ بڑھتا جارہا تھا۔ اس کے ساتھی عملے کی بے رحمی اور سفاکیت نے بالآخر اسے موت کے منہ میں پہنچا دیا، اور اب سے کے دو کمسن بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں۔