ایک رات میں اور عمران خان ڈنر سے واپس آرہے تھے،، عمران خان نے گاڑی ایک دم سے اوپر چڑھا دی ، مجھے صرف ایک چیخ سنائی دی گھر پہنچ کر میں چپ چاپ اندر چلی گئی اور۔۔۔ریحام خان کا اب تک سب سے بڑ اانکشاف

اسلام آباد: چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے کپتان کے ساتھ گزارے گئے ایک سال میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے انکشافات کا سلسلہ جاری رکھا ہو اہے ۔ اب انھوں نے بنی گالہ میں موجود کتوں کے حوالے سے ایسے انکشافات کر ڈالے ہیں کہ سننے والے چونک ہی جائیں گے ۔ عمران خان کے پالتو کتے شیرو کے حوالے سے انھوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ جنرل مشرف اپنے کتوں کو ائیر مارشل اور تحریک استقلال کے رہنما اصغر خان کے پاس چھوڑ کر گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پالتو کُتا عمران خان کو دے دیا گیا ۔ میری شیرو سے ملاقات 2013ء میں ہوئی ، مجھے یاد ہے کہ شیرو مجھ سے ملاقات کے بعد جلد ہی مجھ سے مانوس ہو گیا تھا لیکن اس کے کچھ عرصہ قبل ہی شیرو مر گیا۔

جب میں بنی گالہ میں شفٹ ہوئی تو میں اپنے ساتھ جرمن نسل کا ایک کُتا میکسمس لائی ، عمران خان کو اس سے مانوس ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور پھر یوں ہوا کہ عمران خان نے اپنے تمام کُتوں کو چھوڑ کر میکسمس نامی کُتے کو اپنے ساتھ اپنے بیڈ روم میں سُلانے کا شرف بخشا ، جب میری اور عمران خان کی علیحدگی ہوئی تو میکسمس میرے ساتھ ہی واپس آگیا ۔ ریحام خان نے کہا کہ اب یہ کُتا کون ہے جو عمران خان کی ازدواجی زندگی میں تلخی کا باعث بن رہا ہے اور پاکستانی میڈیا میں خبروں کی زینت بنا ہوا ہے؟ ریحام خان نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ شیرو کا بچہ ”موٹو” ہے ، لیکن ”موٹو” گھر کے اندر رہنا زیادہ پسند نہیں کرتا ۔ ریحام خان نے کہا کہ یہ کُتا وہ ہو سکتا ہے جسے عمران خان کے پسندیدہ پی ٹی آئی اُمیدوار زرتاج گُل ان کے لیے لائے تھے ۔ لیکن اس کُتے کا کوئی خاص نام نہیں تھا ۔ جب بھی کُتا عمران خان کے آس پاس ہوتا تو عمران خان سیٹی بجاتے اور اسے ذہن میں آنے والا کوئی بھی نام دے دیتے ، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا کرنے والا موٹو، پتلو یا بھالو ہو سکتا ہے لیکن برائے مہربانی شیرو کی روح کو آرام کرنے دیجئیے ۔

عمران خان اچھے اور خوبصورت کُتوں کے شوقین ہیں ، ایک کُتے کو رکھنے پر میں نے عمران خان سے اصرار کیا تھا ، جسے وہ پدو کے نام سے بُلاتے تھے ، اس کُتے کے پیدائشی طور پر دونوں کان کٹے ہوئے تھے ۔ میں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کی ، وہ سب کیا جو میں کر سکتی تھی لیکن ایک دن پدو کا دن بھی آ گیا ۔ ایک دن ہم رات کے کھانے سے واپس آ رہے تھے اور عمران خان نے ہمیشہ کی طرح تیز رفتارمیں گاڑی چلائی اور پدو پر چڑھا دی ۔ اس رات کے اندھیرے میں میں نے صرف اس بے بس کُتے کی چیخ سنی تھی ۔ اس کے بعد میں دنگ رہ گئی اور اسی خاموشی میں کمرے کے اندر داخل ہو گئی ۔ مجھ سے نہ تو کُتے کے بارے میں کوئی بات ہوئی اور نہ ہی مجھ میں اتنی ہمت تھی کہ میں اسے دیکھ سکتی ۔ خوش قسمتی سے پدو چوٹ لگنے کے باوجود بچ گیا لیکن اس کے بعد عمران خان نے اسے گھر سے نکال دیا ۔ شیرو سے قبل ایک اور خوبصورت کُتا تھا جو پانی کی کمی کی وجہ سے مر گیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عمران خان صبح کی سیر کو نکل گئے اور کُتے سے متعلق بالکل بھول گئے تھے ۔