مولانا نے دوسری شادی کی حسرت میں سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا ،ایسا وڈیو کلام سنادیاکہ ہر کوئی بے اختیار انہیں داد دینے پر مجبور ہوگیا

کہا جاتا ہے کہ مولوی حضرات کے لئے دوسری شادی کرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا لیکن فی زمانہ اب حالات بدل چکے ہیں اور دوسری شادی کی حسرت ان کے بھی دل میں رہ جاتی ہے جس کا اظہار وہ بسااوقات بڑی شگفتگی سے کرتے ہیں .سوشل میڈیا نے تو ایسے حضرات کے دلوں کو زبان دینے میں زیادہ آسانی فراہم کردی ہے . یہ اظہار فن کا بھی ذریعہ بن گئی ہے اور اس سے دل کی ترجمانی بھی ہوجاتی ہے .پچھلے کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر ایک ایسی وڈیو کافی وائرل ہوچکی ہے جس میں ایک نوجوان مولوی صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ شام کے وقت ایک ریستوران میں بیٹھ کر ایسی نظم ترنم کے ساتھ سناتے نظر آتے ہیں جس میں دوسری شادی کی خواہش ناتمام کا تڑکہ لگا ہوا ہے .

انہوں نے شادی کی منظوم پیش کش اور وائے حسرت کو جس شگفتگی اور بے ساختگی سے پیش کیا ہے ،یہ اپنی جگہ مزاح کی بھرپور لطافت لئے ہوئے ہے. اس نظم کے تین اشعار ہیں جو مزاحیہ شاعری کا نادر نمونہ بھی بن گئے ہیں.خدا ناجے یہ شعر ان کی اپنی تخلیق ہیں یا کسی اور شاعر کے مگر یہ شعر ان کی زبان پر سج سے گئے ہیں .آپ بھی یہ اشعار وڈیو میں سن سکتے ہیں . گزارا ہونہیں سکتا کنارہ ہونہیں سکتا مگر افسوس میں پھر سے کنوارہ ہونہیں سکتا مجھے رنڈواکہے دنیا مجھے منظور ہے لیکن میری بیگم کو یہ ہر گزگوارہ ہونہیں سکتا سنو پہلے بھی میں اک بارسہرا باندھ بیٹھا ہوں تو پھر یہ حادثہ کیونکردوبارہ ہو نہیں سکتا.