شیطان کو خدا مان کر اس کی پرستش کرنے والی سیکرٹ سوسائٹی ’’ایلومیناٹی‘‘ در اصل کیا ہے اور اس کا مشن کیا ہے، تہلکہ خیز انکشافات ایلومیناٹی

شیطان کو خدا ماننے والی سیکریٹ سوسائٹی ’’ایلومیناٹی‘‘ ہے کیا اور کون سے لوگ افراد اسکی پیروی کرتے ہیں؟ اس سیکریٹ سوسائٹی کی بنیاد البرٹ نامی ایک شخص نے رکھی یہ شخص شیطان کو خدا مانتا تھا اور اسہی کو روشنی کا منبع سمجھتا تھا، اس سیکریٹ سوسائٹی کے لوگوں کا ماننا ہے کہ لوسیفر ہی حقیقی خدا ہے اور لوسیفر کے پیروکار ہونے کی وجہ سے ان کو سب سے زیادہ معلومات حاصل ہےاور یہ لوگ معاشرے میں سب سے قابل اور ابتر ہیں – لوسیفر کو مقدس کتابوں میں شیطان قرار دیا گیا ہے۔ خود کو سب سے برتر سمجھنے کے سبب انکا نظریہ ہے کہ ان کو دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ لوگ ہر وقت دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر یا پھر اسکو گلوبل ولیج بنانے کیلئے سازشیں کرتے رہتے ہیں۔

’’ایلومیناٹی‘‘ کے گروپ کے لوگ دنیا کے امیر ترین افراد ہیں جو کہ دنیا کی نئی تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ ’’ایلومیناٹی‘‘ کی سیکریٹ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے شخص ایلٹن لیبے ہے اور یہی شخص ہے جس نے سب سے پہلے چرچ آف شیطان کی بنیاد بھی رکھی۔ ’’ایلومیناٹی‘‘ یا شیطان کے پوجاری ، ’’ایلومیناٹی‘‘ کی پیروی کرنے والی سیکریٹ سوسائٹی کا ماننا ہے کہ اماں حوا نے درخت سے پھل کھا کر اچھا کیا تھا اور اس کو کھانے کے بعد وہ واقعی میں خدا جیسی ہوگئی تھیں۔ یہ لوسیفر کے پیروکار ہیں اور اسکو روشنی کا منبع قرار دیتا ہے تاہم مقدس کتابوں میں لیوسی فر کو شیطان قرار دیا گیا ہے۔ البرٹ بھی فری میسن کیساتھ ’’ایلومیناٹی‘‘ کی بنیاد رکھنے والے لوگوں میں سے تھا اور ’’ایلومیناٹی‘‘ سوسائٹی کے اس سربراہی رکن کی کتاب مورال اور ڈگوما اب بھی شیطان کے پجاریوں کو پڑھائی جاتی ہے اور یہ اپنی کتاب میں ہی لوسیفر کو خدا سے تشبیہہ دیتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ انسان خدا جیسا بن سکتا ہے۔

’’ایلومیناٹی‘‘ اپنی سیکریٹ سوسائٹی میں کسی کو شامل نہیں کرتے تاہم بعض لوگ جو کہ پیسہ کمانا چاہتےیا پھر دنیا بھر میں مشہور ہونا چاہتے ہیں ’’ایلومیناٹی‘‘ سوسائٹی کے پیروکار بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ ہر برے کام کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں اور اس سوسائٹی کے رکن عام لوگوں کی مائنڈ پرگرامنگ کرتے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ کئی گلوکار و فنکاروں کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ بھی اس سیکریٹ سوسائٹی کے ممبر ہیں، ان میں لیڈی گاگا، مائیکل جیکسن، اڈیل سمیت کئی بولی وڈ فنکاروں کے بارے میں شبہے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ شیطان کے پوجاری گروپ کے افراد اکثر بعض ہاتھوں کے اشارے بھی استعمال کرتے ہیں جن کے ذریعے سے ان کو پہچانا جاسکتا ہے کہ ان اشاروں میں وکٹری ، ڈیول ہورنز کا سائن سمیت مختلف اشارے شامل ہیں۔ حتی کہ پاکستانی میڈیا میں بھی شیطان کو پوجنے یا اسکی پرستش کرنے والے اداکاروں کی موجودگی کے شبہے کا اظہار کیا جاتا ہے ۔

اگر ہم اردگرد کے معاشرے یا پھر عالمی شہرت یافتہ شخصیات سمیت میڈیا کا تجزیہ کریں توہم با آسانی یہ جان سکتے ہیں، یہ تمام ٹولز عام لوگوں کی مائنڈ پروگرامنگ کیلئے استعمال ہورہے ہیں اور ان کے ذریعے سے عام یا سادہ لوح افراد کے نظریات کو متاثر کرنا ہے۔ تاہم ضروری یہ ہے کہ ہم کس طرح خود کو ان سازشی عناصر کی سوچ پھیلانے یا پھر ان کا آلہ کار بننے سے بچ سکتے ہیں۔