والدین بچوں کو نمونئے سے بچانے کے لیے ویکسین لگوائیں، ماہرین

کراچی (اردو نیوز)ماہرین امراض اطفال نے 12 نومبر کو ورلڈ نمونیا ڈے کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین لگوائیں۔ پاکستان میں سالانہ 92 ہزار بچے نمونیا کے باعث انتقال کر جاتے ہیں ۔ پروفیسر، ڈاکٹر جلال اکبر، صدر پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن (پی پی ای)، سندھ، چیئرمین اور ہیڈ آف پیڈیاٹرک، چلڈرن ہسپتال، بقائی میڈیکل یونیورسٹی نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کے علاوہ صرف ویکسین ہی وبائی بیماریوں سے بچانے میںمعاون ہے لیکن اس کے باوجود والدین اپنے بچوں کو نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگواتے۔

اگر بچوں کی ویکسینیشن کرائی جائے تو ان اموات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نمونیا نظام تنفس میں شدید نوعیت کا انفیکشن ہوتا ہے جس سے پھیپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں اورسانس لینے میں شدید تکلیف اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالخصوص 5 سال سے کم عمر بچوں پر کپکپی ، بے پوشی ، ہائیپو تھرمیا اور غنودگی طاری ہوجاتی ہے اور دودھ پینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں سے 16 فیصد کی وجہ صرف نمونیا ہے جو 5 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل انتقال کر جاتے ہیں۔جبکہ دنیا بھر میں سالانہ نو لاکھ بیس ہزار بچے اس مرض کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نمونیا سے ہونے والی 99 فیصد اموات کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان 5 ممالک میں ہوتا ہے جن میں سب سے زیادہ نمونیا سے اموات ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نمونیا کی کئی وجوہات ہیں جن میں وائرس ، بیکٹیریا اور فنگس شامل ہیں۔ اسی طرح دیگر اہم وجوہ میں اسٹریپ ٹوکوکس نمونیا، انفلوئنزا ٹائپ بی ، ہب شامل ہیں۔نمونیا سے تحفظ بچوں کی بیماری سے اموات روکنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے نیموکوکل کنجوگیٹ ویکسین (نمونیا ویکسین) پاکستان کے EPI پروگرام میں اکتوبر 2012ء سے شامل کردی گئی تھی۔

اور پاکستان جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے اپنے قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام میں اس پی سی وی کو شامل کیا ہے۔ڈاکٹر مشتاق اے میمن، جنرل سیکریٹری پی پی اے سینٹرل نے کہا کہ حفظان صحت کے اصول ہی بیماریوں سے بچنے کا موثر حل ہے حتیٰ کے ہم صرف ہاتھ دھونے سے ہی کئی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل ایکشن پلان، نمونیے کی روک تھام اور کنٹرول (GAAP) کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب آگہی میں اضافہ کیا جائے۔ ہمیں والدین میں نمونیے کی علامات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔اس سے پاکستان میں نمونیا کو کم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔اس لیے تمام معاشرے کے طبقات بشمول ڈاکٹرز، میڈیا، والدین اور ماہرین اطفال کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں