آب زم زم سے کینسرسمیت کن موذی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے؟ آپ بھی جانیئے

اسلام آباد (اردو نیوز) آب زم زم آب حیات و شفا ہے جس میں سوائے موت کے ہر طرح کا علاج موجود ہے ۔یہ روحانی و مقدس پانی ہے جس قرآن و احادیث میں بہت سی فضیلتیں بیان فرمائی گئی ہیں ۔

مجھے ایک سالک نے بتایا تھا کہ اسے حرم شریف کے ایک خادم نے بتایا تھا کہ اس نے کینسر کے ایک مریض کو دیکھاجو جان بلب تھا ۔لوگ اسے اٹھا کر نماز کے وقت مسجد میں لاتے تھے۔ وہ روزانہ زم زم کا پانی پیتا اور اسی پانی کو اپنی رسولیوں پر ڈال کر دن بھر کیلئے مزید پانی ہمراہ لے جاتا۔

میں اپنا تجربہ بھی بیان کرتا ہوں ۔جب بھی عمرہ پر جاتا ہوں،کعبہ شریف میں قیام کے دوران خوب آب زم زم پیتا ہوں اور میری شوگر اور بلڈ پریشر کا نام و نشاں نہیں رہتا۔

وطن واپسی پر بھی کئی مہینوں تک دوا نہیں کھانی پڑتی ۔مجھے یقین ہے آب زم زم سے فیض پانے کے بعد پرہیز کیا جائے تو ہر طرح کا مرض جاتا رہتا ہے۔کامل ایمان والے کو شفا نصیب ہوتی ہے۔

حضرت ابوذر غفاریؓ آب زم زم کی برکات کے بارے فرماتے ہیں’’ ایک مہینے تک میرا کھانا سوائے زم زم کے کچھ نہ تھا۔ میں موٹا ہوگیا اور میرے پیٹ میں موٹاپے کی وجہ سے سلوٹیں پڑگئیں اور میں نے ا پنے کلیجے میں بھوک کی ناتوانی نہیں پائی‘‘

حضرت ابوذر غفاریؓ کا یہ واقعہ بخاری شریف میں بھی موجود ہے کہ وہ چالیس دن کھائے پیے بغیر کعبہ شریف سے لگے صرف زم زم کے پانی پر گزارا کرتے رہے جس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ کھانا بھی ہے اور پینا بھی اور سب سے بڑھ کر یہ طبیعت کو بحال کرتا ہے۔

نبی پاک ﷺ زم زم کے پانی کو برتنوں اور مشکیزوں میں بھر کر لے جاتے اور بیماروں پر چھڑکتے اور ان کو پلاتے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ یہ پانی بخار کی حرارت کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

مریضوں پر چھڑکنا اور ان کو پلانا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ امام ابن علی فاسی نے آب زم زم کے تہتر نام ذکر کیے ہیں جن میں بیماری سے شفاء بھی شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں