اگر آپ کو پیٹ میں گیس کی شکایت رہتی ہے تو یہ رپورٹ آپ کیلئے کافی فائدہ مند ہوسکتی ہے

ہوا کا اخراج انہضام کے عمل کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ ہم ایک دن میں اوسطاً پانچ سے 15 بار ہوا کا اخراج کرتے ہیں لیکن بعض وجوہات کی بناء پر یہ رفتار بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے ۔ امریکن کالج آف گیسٹرو انٹرالوجی کی ڈاکٹر پیٹریشیا ریمنڈ نے معمول سے زیادہ ہوا کے اخراج کے متعلق بات کرتے ہوئے اس کی چند اہم وجوہات بتائی ہیں ۔ دی مرر کے مطابق ڈاکٹر پیٹیریشیا کہتی ہیں کہ ہوا کے زیادہ کی وجوہات غذا سے متعلقہ بھی ہو سکتی ہیں اور اس کے علاوہ بھی ۔ مثلاً سطح سمندر سے بلندی بھی ہوا کے اخراج پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ فضائی سفر کے دوران لوگ عموماً ہوا کا زیادہ اخراج کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلندی پر ہوا کے کم دباﺅ کی وجہ سے ہمارے جسم میں موجود گیس پھیل جاتی ہے اور ہمیں اسے خارج کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔

جب غذا مکمل طور پر ہمارے جسم میں جذب نہیں ہوتی تو اس کے ہضم نہ ہونے والے حصے چھوٹی سے بڑی آنت میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ جسم میں جذب نہ ہونے والایہ حصہ انہضام کے عمل کے دوران گیس پید اکرتا ہے جو ہمارے جسم سے خارج ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ ایسی غذا استعمال کریں جو زود ہضم ہو تا کہ ہمارے جسم میں ا س کا زیادہ سے زیادہ انجذاب ہو اور گیس کم پیدا ہو ۔ کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو بہت صحت بخش، نرم اور زود ہضم ہونے کے باوجود پیٹ میں زیادہ گیس پیدا کرتی ہیں۔ پھل، سبزیاں، مکمل اناج اور دالیں وغیرہ ایسی ہی غذائیں ہیں جو نسبتاً زیادہ گیس پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح پیاز، گوبھی، پالک اور سلاد وغیرہ میں بھی ریفینوز نامی کاربوہائیڈریٹ پایا جاتا ہے جو معدے میں جذب نہیں ہوسکتا اور یہ بھی پیٹ میں گیس پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔

اگر آپ کھانا بہت تیزی سے کھاتے ہیں ، چونگم چباتے ہیں یا گیس والے مشروبات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو باہر سے آپ کے جسم میں زیادہ ہوا منتقل ہو جاتی ہے ۔ اس ہوا کو بھی آخر تو خارج ہونا ہوتا ہے ۔ ماہرین صحت یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب جسم سے خارج ہونے والی ہوا بہت ہی بدبودارہوتو یہ اس بات کی علامت ہے کہ کچھ غذائی اجزاء کے جسم میں جذب ہونے کا عمل درست طور پر نہیں ہورہا ۔ مختلف لوگوں کے لئے یہ غذائی اجزاءمختلف ہوسکتے ہیں لیکن زیادہ تر لوگوں کو کاربوہائیڈریٹ والی غذاﺅں میں پائی جانے والی شوگر سے یہ مسئلہ لاحق ہوتا ہے ۔ اگر ہوا کے اخراج کے ساتھ درد بھی محسوس ہو ، اسہال یا قبض جیسی شکایت ہو ، تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے اور فوری ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے ۔