مالٹے کے چھلکوں کے 7 انوکھے فوائد

مالٹوں کا موسم آئندہ چند ماہ میں پھر واپس آرہا ہے اور یہ پھل لوگوں کو بہت پسند بھی ہے جبکہ اس کے متعدد طبی فوائد بھی ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے چھلکے بھی کتنے کارآمد ہیں؟ ان کی مہک اور آئلز وغیرہ انہیں قدرتی کلینر اور ائیر فریشنر بنادیتے ہیں. تو مالٹوں کے چھلکوں کے ایسے فوائد جانیں جن سے ہوسکتا ہے آپ واقف نہ ہوں. کیڑوں کو بھگائیں مالٹوں کے چھلکوں میں ایسا کیمیکل ہوتا ہے جو مچھروں، مکھیوں اور دیگر کیڑوں کو دور بھگاتا ہے، اس کے لیے چھلکوں کو اپنے احاطے یا دروازے اور کھڑکیوں کے قریب رکھ دینا بھی مچھروں اور کیڑوں کو دور بھگانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے،

اسی طرح مالٹے کے چھلکوں کو بلینڈ میں پیس لیں اور پھر ایک کپ گرم پانی میں ملالیں، اس سلوشن کو چیونٹیوں سے متاثرہ جگہوں پر چھڑک دیں. فریج کو ریفریش کریں کیا آپ کے فریج میں بو پیدا ہوگئی ہے ؟ تو مالٹے کے چند چھلکوں پر نمک چھڑک کر فریج میں رکھ دیں، نمک فریج میں پیدا ہونے والی بو اور اس کی ہوا میں موجود نمی کو جذب کرلے گا جبکہ چھلکے فریج کو مہکا دیں گے.

لکڑی کی سطح جگمگائیں مالٹے کے چھلکے نہ صرف لکڑی کی سطح کو صاف کرکے میزوں اور الماریوں کو صاف اور جگمگاتے ہیں بلکہ انہیں اچھی مہک بھی دیتے ہیں، اس کے لیے کسی جار کا آدھا حصہ چھلکوں سے بھر کر سرکے انڈیل کر اسے پورا بھر دیں، اس کے بعد اس مکسچر کو دو ہفتے کے لیے چھوڑ دیں، پھر محلول میں سے چھلکے نکال کر پھینک دیں اور سیال کو اسپرے بوتل میں ڈال کر استعمال کرنا شروع کردیں.

اسٹین لیس اسٹیل کو پالش کریںلکڑی کی طرح مالٹے کے چھلکے اسٹیل پر سے بھی داغ دھبے دور کرتے ہیں، بس چھلکوں کو اسٹیل کے برتنوں یا کسی بھی چیز پر رگڑیں اور نئے جیسے ہوجائیں گے. الماری کو مہکائیں اگر الماریاں پرانی ہوجائیں تو ان میں ایک عجیب سے بو پیدا ہوجاتی ہے، تو کسی جراب وغیرہ میں مالٹے کے چھلکے ڈال کر الماری میں رکھ دیں، جب وہ خشک ہوجائیں تو تازہ چھلکے رکھ دیں، الماری مہکتی رہے گی . بالوں کے لیے بہترین مالٹوں میں وٹامن سی پایا جاتا ہے جو صحت کے لیے بہتر ہوتا ہے

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بالوں کے لیے بھی کمال کرتا ہے؟ اس کے لیے ایک مالٹے کو چھلکوں سمیت بلینڈر میں ڈال دیں، اس سیرم یا محلول کو بالوں پر شیمپو کی طرح لگا کر دھولیں، آپ کے بال نرم اور جگمگانے لگیں گے. سنک کی بو دور کرے کیا کچھ کے سنک میں بدبو پیدا ہوگئی ہے اور اسے فوری طور پر دور کرنا چاہتے ہیں، تو مالٹے کے چند چھلکے اس کے سوراخ میں ڈال دیں، اس میں موجود آئلز اور عرق وغیرہ چکنائی کو کاٹ کر ڈرین کو صاف اور خوشبودار بنادیں گے. بادشاہ کا حکم ”حضور کے حکم کی تعمیل میں مجھے میرے گھر میں بند کردیا گیا تھا. کئی مہینوں تک پریشان اور تنگدست رہا.

آخر مجبور ہو کر یہ نازیبا حرکت کی. حضور مجھے معاف کردیں. بادشاہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر کہنے لگا کہ اچھا ہم نے تمہیں معاف کیا اور تمہاری ملازمت بھی بحال کردی . غلطی ہماری ہی تھی ہم نے حکم ہی ایسا دیا تھا کہ آدمی بھوک اور تنگدستی سے مجبورہوکر چوری کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے، اگر ہم تمہیں گھر میں قید نہ کرواتے تو شاید تم ایسی حرکت کبھی نہ کرتے. جاؤ! اب ایسی حرکت نہ کرنا، چوری بہر حال بری حرکت ہے. بادشاہ اور سردار دونوں نے غلطی کی تھی. دونوں نے اپنی اپنی غلطی تسلیم کرلی اور ایک دوسرے کا آئندہ کیلئے عبرت حاصل ہوگئی. کہتے ہیں کہ پھر سردار نے کبھی چوری نہ کی اور نہ بادشاہ نے کبھی کسی کو ایسی سزادی. بہت پہلے جب ہر جگہ بادشاہ ہی حکومت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک بادشاہ اپنے ایک

ملازم سردار سے ناراض ہوگیا اور اُسے دربار سے نکال دیا اور حکم دیا گیاکہ تم دن رات اپنے گھر میں پڑے رہو نہ کہیں باہر جاسکتے ہو اور نہ ہی کہیں کام کرسکتے ہو. یہ بظاہر معمولی حکم تھا کیونکہ دن رات گھر میں پڑے رہنا کچھ کام کاج نہ کرنا اور فارغ وقت گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے. ویسے بھی ایک آدمی ایک ہی جگہ اور ایک قسم کے لوگوں میں رہتے رہتے گھبرا جاتا ہے اور تو اور بہت وحشت ہوتی ہے. وقت کاٹنا دوبھر ہوجاتا ہے چنانچہ اُسکے ساتھ بھی ایسی ہی ہوا. وہ سارا دن پڑا رہتا اور کوئی کام نہیں کرسکتا تھا. سردار بہت پریشان تھا کیونکہ اسکے بچوں کے پیٹ بھرنے کا سوال تھا.

جب وہ گھر سے باہر قدم نہیں نکالے گا تو بیوی بچوں کو کھلائے گا کہاں سے؟“ اتفاق سے کچھ دنوں کے بعد بادشاہ وزیر اور شہزادے بلائے گئے. سردار کو ایک ترکیب سوجھی تو اسکی آنکھیں چمک اٹھیں. اُس نے اپنی بیوی کو پڑوس میں ایک قیمتی جوڑا لانے کیلئے بھیجا. وہ پڑوس سے قیمتی جوڑا لے آئی. سردار نے مانگے کا قیمتی جوڑا جلدی سے زیب تن کیا اور گھر سے نکل پڑا اور شان سے چلتا ہوا شاہی دربار میں جا پہنچا. درباری سمجھے کہ کوئی معزز مہمان ہے اُسے لے جا کر بڑے ادب سے دوسرے بڑے لوگوں کے ساتھ کرسی پر بیٹھا دیا. سردار گردن اکڑا کر کرسی پر بیٹھ گیا. دربار شروع ہوا .

جشن کی تمام رسمیں ادا کی گئیں اور اسکے بعد دسترخوان پر اعلیٰ قسم کے کھانے رکھے گئے. سردار نے بھی ہاتھ بڑھا کر خوب ڈٹ کر کھانا کھایا اور پھر نظر بچا کر بڑی چالاکی سے سونے کی ایک رکابی اپنے لباس میں چھپالی اور دربار ختم ہوتے ہی وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا اور گھر آکر بڑے مزے سے سارا واقعہ اپنی بیوی کو سنایا. اِسکے بعد اُسکی بیوی بازار جاتی اور سونے کی رکابی کا ایک ٹکڑا کاٹ کر فروخت کرکے کچھ رقم لے آتی.