چھینک روکنے کی کوشش جان لیوا بھی ہو سکتی ہے

جب آپ کو چھینک آرہی ہو تو جو مرضی کیجئے لیکن اپنی ناک کو دبا کر اسے روکنے کی ہرگز کوشش نہ کیجئے ورنہ نتیجہ ایسا خوفناک بھی ہوسکتا ہے کہ جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ڈاکٹروں نے ایک ایسے ہی آدمی کے متعلق انکشاف کیا ہے جس نے چھینک کو روکنے کے لئے اپنی ناک کو دبالیا لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ گلے کے اندر سانس کی نالی میں پچھلی جانب سوراخ کروابیٹھا۔ چونتیس سالہ مریض کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ درد سے بے حال تھا۔ اس کے لئے کچھ بھی کھانا پینا ممکن نہیں تھا اور حتیٰ کہ بولنا بھی ناممکن تھا۔ مریض نے بتایا کہ اس نے چھینک کو روکنے کے لئے منہ کو تو بند کیا ہی تھا ساتھ اپنی ناک کو بھی دباکر بند کرلیا، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔

میل آن لائن کے مطابق اس مریض کو ایک ہفتے کے علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا جاچکا ہے، تاہم اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ سائنسی جریدے ’بی ایم جے کیس رپورٹس‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ شخص پھر بھی خوش قسمت ہے کہ اس کے گلے میں سوراخ ہوا، ورنہ چھینک کو روکنے کے نتیجے میں اندرونی دباﺅ نازک اعضاءکو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر موت کا سبب بھی بن سکتا تھا۔ یونیورسٹی ہسپتال آف لائسسٹر این ایچ ایس ٹرسٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ چھینک کو زبردستی روکنے کی کوشش میں آپ کی سانس پھیپھڑوں کے درمیاں سینے میں پھنس سکتی ہے، کان کا پردہ پھٹ سکتا ہے، اور حتیٰ کہ دماغ میں خون کی رگیں بھی پھٹ سکتی ہیں، جس کا نتیجہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔