روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والے کونسے کھانے کینسر کا سبب ہیں؟ ماہرین کا انتباہ

کینسر ایک موذی مرض ہے جو غیر صحت مند طرز زندگی اور مضر غذائی اشیا کے استعمال سے شروع ہوتا ہے اور اگر ان عادات کو برقرار رکھا جائے تو طاقتور ہو کر موت کا سبب بن سکتا ہے۔شاید آپ کے علم میں نہ ہو لیکن بعض اشیا ایسی ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں اور نہایت خاموشی سے ہمارے اندر کینسر کے خلیات کو فعال کر رہی ہیں۔

آئیں دیکھتے ہیں وہ کون سی غذائیں ہیں۔دن بھرمیں بھوک بہلانے کے لیے کھائے جانے والے پوٹاٹو چپس میں بے تحاشہ چکنائی شامل ہوتی ہے۔انہیں طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے لیے مصنوعی طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے اور مصنوعی رنگوں کی بھی آمیزش کی جاتی ہے جس کے بعد یہ چپس کھانے کے لیے بدترین بن جاتے ہیں۔شاید پاپ کارن کو اس فہرست میں دیکھ کر آپ کو دھچکہ لگے لیکن گھبرایئے مت، تمام پاپ کارن کینسر کا باعث نہیں بنتے۔

صرف وہ پاپ کارن جو مائیکرو ویو اوون میں تیار کیے گئے ہوں کینسر پیدا کرسکتے ہیں۔پاپ کارن بذات خود کینسر کا باعث نہیں، مسئلہ اس بیگ میں ہے جس میں یہ تیار کیے جاتے ہیں۔اس بیگ کی تیاری میں استعمال کیا جانے والا ایسڈ پلاسٹک مائیکرو ویو کی حرارت سے پگھل کر پاپ کارن میں شامل ہوسکتا ہے جس کے بعد یہ پاپ کارن کھانا آپ کو جگر، گردے اور مثانے کے کینسر میں مبتلا کرسکتا ہے۔ہم میں سے بہت سے افراد اپنے کھانے کو اچار کے ساتھ مزیدار بناتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ اچار کوئی فائدہ مند شے نہیں ہے۔قدرتی طریقے سے تیار کیے جانے والے اچار کو مختلف غذائی اجزا کو ملانے کے بعد کئی دن تک یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے جس کے بعد یہ اشیا سڑ جاتی ہیں، جی ہاں اچار دراصل باسی اور سڑ جانے والی اشیا کا مرکب ہے۔

اسی طرح مصنوعی طریقے سے اچار تیار کرنے کے لیے اس میں مختلف کیمیکلز ملائے جاتے ہیں جو ہر صورت میں جسم کے لیےخطرناک ہیں۔بازار میں تیار کیے جانے والے فرنچ فرائز کے لیے مضر صحت تیل اور مصالحہ جات استعمال کیے جاتے ہیں جو صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔اس کے برعکس گھر میں کم تیل میں تیار کیے گئے فرنچ فرائز نسبتاً محفوظ ہیں۔بازار میں دستیاب عام کولڈ ڈرنکس / سوڈا ڈرنکس کے نقصانات کے حوالے سے تمام سائنسی و طبی ماہرین متفق ہیں۔ یہ موٹاپے، معدے اور سینے مین جلن اور تکلیف کا سبب بنتی ہیں۔کولڈڈرنکس کی تیاری میں بے تحاشہ شوگر، کیمیکلز اور مصنوعی رنگ ملائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے زہر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بعض افراد وزن کم کرنے یا ممکنہ طور پر شوگر سے محفوظ رہنے کے لیے چینی کی جگہ مصنوعی مٹھاس یعنی کینڈرل کا استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں مصنوعی مٹھاس کو کیمیکل سے بنایا جاتا ہے جو قدرتی مٹھاس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔یہ جسم میں شوگر کی مقدار کو کم کرنے یامعمول کی سطح پر رکھنے کے بجائے اس میں اضافہ کرتی ہے اور اس کا بہت زیادہ استعمال کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔سپر مارکیٹس میں محفوظ کیا ہوا پیکٹ والا گوشت خراب ہونے سے بچانے کے لیے نمک لگا کر محفوظ کیا جاتا ہے۔

یہ نمک گوشت کے اجزا کے ساتھ مل کر خطرناک صورت اختیار کرجاتا ہے جو کینسر سمیت قبل از وقت موت کا سبب بن سکتا ہے۔الکوحل کینسر کا سبب بننے والی دوسری بڑی وجہ ہے۔ الکوحلخواتین میں بریسٹ کینسر کا خدشہ بڑھا دیتی ہے۔امریکا میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق الکوحل کے عادی افراد امراض قلب کا عمومی شکار ہوتے ہیں اور ان میں فالج، کینسر اور قبل از وقت موت کا خطرہ دوگنا ہوتا ہے۔