سویاں کیسے تیار کی جاتی ہیں؟

بیشتر لوگ عید کی نماز پڑھنے کے لیے جانے سے پہلے اس دن کی شروعات سویّاں کھا کر کرتے ہیں۔ دودھ کے ساتھ بنی یا فرائی کی گئیں سویاں عید کے مینیو میں ضرور شامل ہوتی ہیں جو ہر گھر میں بنتی ہیں، شاید اسی لیے رمضان کے بعد اس عید کو میٹھی عید کہا جاتا ہے۔

سوجی کے آٹے یا میدے سے بنی یہ سویاں بہت سے کھانوں میں استعمال ہوسکتی ہیں اور پورے ملک میں اسے میٹھے پکوانوں میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ عید کے موقع پر سویوں کی مانگ بڑھ جانے کے باعث چھوٹی فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں ملازمین رمضان کے آخری 10 دنوں کے دوران دن رات شفٹس کرکے سویاں تیار کرتے ہیں۔

راولپنڈی کے رہائشی علاقوں میں چھوٹی فیکٹریاں موجود ہیں جہاں خواتین روایتی ترکیب سے سویاں تیار کرتی ہیں، یہاں کے ورکرز روایتی ترکیبوں کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ سویوں کی خوشبو اور رنگ برقرار رہے۔

سویاں تیار کرنے کا عمل کافی طویل ہے، اس کی تیاری میں چھ سے سات لوگ درکار ہوتے ہیں، مشینوں سے قبل ان سویوں کو ہاتھ سے تیار کیا جاتا تھا۔ تاہم مشینوں کے متعارف ہونے کے باوجود بھی یہاں کے مزدوروں کو اپنے ہاتھوں سے سویاں تیار کرنی پڑتی ہیں، جس کی وجہ اکثرو بیشتر بجلی کی لوڈ شیڈںگ ہے، ورکشاپس کے بہت سے مالکان کارکنوں کو ان کی روزانہ کی اجرت ادا نہیں کرتے، لہذا بجلی نہ ہونے پر بہت سے ورکرز کام چھوڑ دیتے ہیں۔

سویاں بنانے کے لیے مزدور پہلے آٹے کا پیڑا تیار کرتے ہیں، جبکہ بعد میں اس پیڑے کو گولیوں کی شکل دے کر مشین میں ڈالا جاتا ہے، جہاں سے لمبی پتلی سویاں تیار ہوتی ہیں، مشین سے نکلنے والی سویوں کو چولہے کے قریب ہینگر پر لٹکایا جاتا ہے۔

سوکھنے کے بعد مزدور ان سویوں کو چند منٹ کے لیے چولہے میں رکھ دیتے ہیں، جس سے ان کا رنگ سنہرا ہوجاتا ہے، اس کے بعد ان کو پلاسٹک کے بیگز میں ڈال کر فروخت کے لیے دکانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔