ملک میں پٹرول بحران کیوں پیدا ہوا؟ تحقیقاتی رپورٹ میں اہم انکشافات منظر عام پر آگئے

اسلام آباد(اردو نیوز) ملک میں پٹرول کی قلت کے حوالے سے کی گئی تحقیقاتی کی تفصیلی رپورٹ منطر عام پر آ چکی ہے جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کو پیش کردہ پٹرول بحران کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایف آئی اے نے بحران کا ذمہ دار پٹرولیم ڈویژن کے ذیلی اداروں کو ٹھہرا دیا ہے۔ دستاویز کے مطابق رپورٹ میں بحران کا ذمہ دار پٹرولیم ڈویژن کے ذیلی اداروں کو قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں پٹرول بحران کے دوران کمپنیوں کے پاس وافر ذخیرہ موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پٹرولیم بحران کا باعث بنیں۔پٹرول پمپس کو جان بوجھ کر پٹرولیم کی سپلائی روکی گئی۔کمپنیوں کے پاس ذخیرہ ہونے کے باوجود مصنوعی بحران پیدا کیا گیا۔

وزارت پٹرولیم اور ڈی جی آئل پٹرول دستیابی یقن بنانے میں ناکام رہے۔بحران کے دوران حکومتی اداروں نے کمپنی کے ذخیرے کی جانج پڑتال نہیں کی۔تحقیقاتی رپورٹ میں بحران کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ایف آئی اے کے وزارت پڑولیم سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ویٹرنری ڈاکٹر شفیع آفریدی کو وزارت میں ڈی جی آئل لگانے کا انکشاف ہوا ہے۔شفہع آفریدی کے پاس آئل سیکٹر میں کوئی تجربہ نہیں۔

ستاویز کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے پٹرولیم ڈویژن سے سوال کیا کہ شفیع آفریدی کی خلاف ضابطہ تقرری کیوں کی گئی۔پٹرولیم ڈیوژن کے ذیلی اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان بھی بحران کی وجوہات میں شامل ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال جون جولائی میں ملک میں پٹرول کی مصنوعی قلت پیدا ہو گئی تھی۔وفاقی حکومت نے پٹرول کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کا پتہ لگانے کے لیے انوکائری کمیشن بنایا تھا۔ وزیراعظم نے پٹرول بحران کے ذمہ داروں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔