وزیراعظم عمران خان کے دورہ متحدہ عرب امارات سے پاکستانی مصنوعات کی برآمد

لاہور (اُردو نیوز) سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز پاکستان چیپٹر کے نائب صدر افتخار علی ملک نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ متحدہ عرب امارات سے نہ صرف پاکستانی مصنوعات کی برآمد بلکہ دونوں ملکوں کے باہمی تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے میں بھی مدد ملے گی۔دونوں ملکوں کا باہمی تجارتی حجم 8 ارب ڈالر ہے جو بروقت اور مئوثر اقدامات کے ذریعے مستقبل میں بڑھایا جاسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ اس دورے سے ہم دونوں ملکوں کے تاریخی تعلقات کو دونوں طرف سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ملکوں کی کاروباری برادری سے بات چیت کے ذریعے نئے منصوبوں کے لیے معاہدے کیے جاسکتے ہیں۔

پاکستان کو دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے اقدامات اور برادر ملک کو برآمد کے قابل مصنوعات پر توجہ دینی ہوگی۔گزشتہ سال متحدہ عرب امارات سے درآمدات کا حجم 6.62 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7.23 ارب ڈالر رہا جبکہ یواے ای کو پاکستانی برآمدات 1.08 ارب ڈالر سے کم ہوکر 1.06 ارب ڈالر پرآ رہیں جو 1.83 فیصد کمی ہے۔ روایتی و تاریخی تعلقات ہمارے مستقبل کے تعاون کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں ملکوں نے دوہرے ٹیکسوں سے بچائو اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے مل کر کام پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے ساتھ ساتھ ملکی برآمدات کے فروغ کے لیے مخلصانہ کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ اس مشکل مرحلے پر پوری قوم وزیراعظم کے شانہ بشانہ ہے اور ساری کاروباری برادری اس عمل میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور چین کے دوران وہاں سے بہتر رسپانس کا ملنا نیک شگون ہے جس پر تمام کاروباری برادری نے تحریک انصاف کی حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے جو تاجر برادری کے حقیقی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے اور پسماندہ طبقات کی بہتری کے لیے مخلصانہ اقدامات کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں