بیرون ملک مقامی کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ سے خریداری کرنے پر پیشگی ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (اُردو نیوز) بیرون ملک مقامی ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کرنے والوں پر پیشگی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 236Y کے تحت بیرون ملک رقم کی ادائیگی کےلیے مقامی ڈیبٹ کارڈ ، کریڈٹ کارڈ ، پری پیڈ کارڈز یا پھر اے ٹی ایم کارڈز سمیت ایسے تمام کارڈز جو کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے زمرے میں آتے ہیں، استعمال کرنے کی صورت میں صارف پر ٹیکس لاگو ہو گا۔

ایف بی آر کی جانب سے 2018ء کے ٹیکس سرکلر 3 کے ذریعے ٹیکس جمع کرنے والی اتھارٹی نے کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور پری پیڈ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک رقم کی ترسیل کرنے والوں پر ایک پیشگی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور پری پیڈ کارڈز کو بیرون ملک سفر، آن لائن خریداری اور بیرون ملک کی گئی خریداری کی ادائیگی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

فنانس ایکٹ 2018ء کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ایک نیا سیکشن 236Y متعارف کروایا گیا ہے۔ جس کے تحت تمام بینکنگ کمپنیاں بیرون ملک کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور پری پیڈ کارڈز کے ذریعے رقم ترسیل کرتے وقت پیشگی ٹیکس وصول کرنے کی پابند ہوں گی۔ اس سیکشن کے تحت جمع ہونے والے پیشگی ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ فائلرز کی بیرون ملک ترسیل کی جانے والی رقم پر ایک فیصد اور نان فائلرز کی بیرون ملک ترسیل کی جانے والی رقم پر 3 فیصد پیشگی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

وہ تمام پلاسٹک کارڈز جو کریڈٹ کارڈز، ڈیبٹ کارڈز اور پری پیڈ کارڈز کے زمرے میں آتے ہیں اس سیکشن میں موجود ہیں۔ چونکہ اے ٹی ایم کارڈز بھی بعض اوقات ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں لہٰذا اے ٹی ایم کارڈز بھی اسی زمرے میں آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں