تحریک انصاف کی فتح کے ساتھ ہی ڈالر ، ریال اور اماراتی درھم کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئیں

آج کے روز پاکستان میں الیکشن نتائج سامنے آ جائیں گے ۔ الیکشن کے انعقاد کے بعد سے سعودی ریال کی قیمت میں معمولی کمی واقع ہوئی اور قیمت 33.90 رہی ۔ اسی طرح ڈالر کی قیمت میں بھی معمولی کمی واقع ہوئی اور قیمت خرید 129.35 ریکارڈ کی گئی ہے ۔ اسی طرح قیمت فروخت 130.35 رہی ۔ واضح رہے کہ منگل کو قیمت خرید 129.50 تھی ۔ اسی طرح اماراتی درہم کی قیمت کم ہوکر 34.75 رہی ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معیشت گزشہ چند مہینوں کے دوران دگرگوں صورتِ حال سے دو چار ہے ۔ پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے ۔ سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان کی معیشت مسلسل زوال کی جانب گامزن رہی ہے ۔ روپیہ اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے ۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران روپیے کی قدر میں بہت زیادہ مندی دیکھی گئی جس کے باعث غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے ۔ گزشتہ سوموار کے روز سعودی ریال کی قیمت خرید 34.20 پر جا پہنچی تھی جبکہ قیمت فروخت 34.40 تھی ۔ امریکی ڈالر بھی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے ۔ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 131.50 روپے تک فروخت ہو تا رہا ہے جبکہ اس کی قیمتِ خرید 130.50 کو چھو رہی تھی جس میں آج کے روز کمی آئی ہے ۔

اماراتی درہم بھی 35 روپے کی بلند ترین قدر کو پہنچ کر اب کچھ نیچے آیا ہے ۔ روپیے کی قیمت میں مسلسل کمی پر پاکستانی معیشت دان بہت پریشان ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والی گورنمنٹ کو معیشت کے شعبے میں ان گِنت مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ گِرتی معیشت کو سنبھالا دینے کی غرض سے ہنگامی نوعیت کے کچھ غیر مقبول فیصلے بھی لینا پڑیں گے جس کے باعث عوامی حلقوں اور اپوزیشن کی جانب سے بھرپور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اس لحاظ سے اگلی حکومت کے لیے اقتدار عشرت کدے سے زیادہ کانٹوں کی سیج ثابت ہو گا ۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے قرضوں کی وصولی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی حکام پر ٹیکسز میں مزید اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ نگران حکومت نے معیشت کی خراب صورتِ حال سے نبرد آزما ہونے کی غرض سے ہی ایک ماہ کے اندر دو بار پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا ۔ اگر چہ عدالتی مداخلت پر چند روپے کی کمی بھی کی گئی مگر پھر بھی اس اضافے پر عوام بلبلا اٹھے ہیں ۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ معاشی صورتِ حال میں بہتری واقع نہ ہوئی تو پھر روپیہ اپنی قدر مزید کھو بیٹھے گا جس کے باعث قرضوں کی غیر ملکی کرنسی میں واپسی کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔