بھارت میں 2000 روپے کے جعلی کرنسی نوٹ ، بھارتی حکومت بے بس ، الزام پاکستانی آئی ایس آئی پر ڈال دیا

روایتی حریف ملک بھارت پاکستان پرا لزام تراشی کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا لیکن بعض اوقات ایسے الزام لگائے جاتے ہیں کہ جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا بلکہ خود ہی دنیا میں تماشہ بن جاتا ہے ، ایسا ہی کچھ اب کی بار بھی ہوا ۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں پرنٹ ہونیوالے 2000 روپے کے نقلی نوٹ بھارت آ رہے ہیں اور ہم انہیں روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کر پا رہے ۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق 2000 روپے کے غیر قانونی اور نقلی نوٹ انڈیا بنگلہ دیش بارڈ سے بھارت آ رہے ہیں اور اس دفعہ سامنے آنیوالے نوٹ اصلی نوٹ سے مشابہت رکھتے ہیں ۔

نوٹ کے اندر موجود 17 سیکیورٹی فیچرز میں سے تقریباً آدھے فیچرز ان جعلی نوٹوں میں موجود ہیں ۔ پانچ دن قبل ویسٹ بنگال پولیس نے مالدہ کے26 سالہ عزیز الرحمان کو حراست میں لیا جس کے قبضے سے دو ہزار روپے کے 40 جعلی نوٹ برآمد ہوئے ، بی ایس ایف کے سینئر حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی ایجنسیز کی طرف سے برآمد کیے گئے نوٹس کی تعداد سیکیورٹی ایجنسی کیلئے اہم ہے ، سیکیورٹی فیچر بھی انتہائی مہارت کیساتھ ڈالے گئے ، ہم آر بی آئی کیساتھ اپنے اہلکاروں کو تربیت دلانے کیلئے بات چیت کر رہے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق پکڑے گئے ملزم نے تحقیقاتی اداروں کو بتایا کہ یہ نوٹ مبینہ طور پر آئی ایس آئی کی معاونت سے پاکستان میں چھاپے گئے اور پھر بنگلہ دیش کے بارڈر کے ذریعے سمگل کیے گئے ۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی مرشد آباد مکیش کمار نے بتایا کہ پہلے جہاں سے بھی جو نوٹ پکڑے گئے ، وہ یا تو سکین ہوتے ہیں یا پھر رنگین فوٹو کاپی ہوتی ہے لیکن ان کرنسی نوٹس کو سوفسٹیکیٹڈ ڈائیز استعمال کرکے پرنٹ کیاگیا ، یہ نوٹ جب آر بی آئی کو بھیجے گئے تو حکام نے کہا کہ ان جعلی نوٹس میں استعمال ہونیوالے فیچرز کو اصلی نوٹ سے امتیاز کرنا کافی مشکل ہے ۔